یہ بات سن کر اکثر لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ پاکستان، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ جیسے شدید گرم اور شدید دھوپ والے ملکوں میں اکثر افراد وٹامن ڈی کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان ممالک میں 70 سے 80 فیصد آبادی کی باڈی میں وٹامن ڈی کی سطح معمول سے بہت کم ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم پورا سال تیز دھوپ سے گھِرے رہتے ہیں، تو پھر جسم وٹامن ڈی کی شدید طلب کیوں محسوس کرتا ہے؟
اس عجیب حقیقت کی اہم وجہ جدید طرزِ زندگی ہے۔ آج کا انسان اپنا زیادہ تر وقت بند کمروں، اے سی والے دفاتر، اسکولوں اور گھروں میں گزارتا ہے۔ صبح سے شام تک چھتوں کے نیچے رہنے کے باعث ہماری جلد کو براہِ راست سورج کی روشنی ملنے کے مواقع انتہائی کم ہو چکے ہیں۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ شیشے کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر دھوپ سیکھنے سے وٹامن ڈی مل جاتا ہے، لیکن یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔ ونڈو کا شیشہ سورج کی ان الٹرا وائلٹ (UVB) شعاعوں کو مکمل طور پر بلاک کر دیتا ہے جو جسم میں وٹامن ڈی بنانے کا سبب بنتی ہیں۔
اس کے علاوہ گرم موسم سے بچاؤ اور پورا جسم ڈھانپنے والے لباس کی وجہ سے بھی جلد تک دھوپ نہیں پہنچ پاتی۔ شدید گرمی کے باعث لوگ دوپہر کے وقت باہر نکلنے سے کتراتے ہیں، جب کہ وٹامن ڈی کے حصول کے لیے وہی وقت سب سے زیادہ موزوں ہوتا ہے۔
ایک اور اہم وجہ جلد کا رنگ (Melanin) ہے۔ ہماری ایشیائی جلد میں قدرتی طور پر میلانن نامی مادے کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ میلانن جلد کو سورج کے نقصان دہ اثرات سے بچاتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ وٹامن ڈی بننے کے عمل کو بھی سست کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سانولی جلد والے افراد کو سفید فام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ وقت دھوپ میں بیٹھنا پڑتا ہے۔
شہروں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، گرد اور دھواں بھی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو ہم تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔
ویتامن ڈی ہڈیوں، پٹھوں اور امیون سسٹم (قوتِ مدافعت) کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے روزانہ صبح یا دوپہر کے وقت 10 سے 15 منٹ براہِ راست دھوپ میں بیٹھنا، انڈے، مچھلی اور دودھ کا استعمال بڑھانا، اور ڈاکٹر کے مشورے سے بلڈ ٹیسٹ کروا کر وٹامن ڈی کے سپلیمنٹس لینا بے حد مفید اور ضروری ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment