خبریں

موبائل فون اور ہماری بگڑتی (یا سدھرتی؟) زندگی

موبائل فون اور ہماری بگڑتی (یا سدھرتی؟) زندگی


قدیم زمانے کے انسان کے پاس جب کوئی کام نہیں ہوتا تھا تو وہ غاروں کی دیواروں پر تصویریں بنایا کرتا تھا۔ آج کا انسان بھی وہی کام کر رہا ہے، بس غار کی جگہ پانچ انچ کی شیشے کی سکرین نے لے لی ہے اور تصویروں کی جگہ "سیلفیز" نے!

موبائل فون ہماری زندگی میں اس طرح داخل ہوا ہے جیسے بغیر بلائے آنے والا وہ رشتہ دار جو چند دن کا کہہ کر آتا ہے اور پھر گھر کے شناختی کارڈ پر اپنا پتہ درج کروا لیتا ہے۔ آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ انسان اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر پہلے یہ نہیں چیک کرتا کہ بٹوے میں پیسے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ موبائل موجود ہے یا گھر بھول آیا ہے۔ اور اگر موبائل نہ ملے تو دل کی دھڑکن یوں تیز ہوتی ہے جیسے فلم کے کلائمیکس میں بم کا ٹائمر چل رہا ہو۔

ہمارے صبح اٹھنے کے انداز کو بھی اس ننھے آلے نے پوری طرح بدل دیا ہے۔ پرانے زمانے میں مرغ کی اذان سے آنکھ کھلتی تھی، پھر الارم کلاک آئی، اور اب موبائل فون کا وہ خوفناک الارم آتا ہے جسے ہم ہر پانچ منٹ بعد "سنوز" (Snooze) کرتے ہیں۔ صبح آنکھ کھلتے ہی انسان سب سے پہلے خدا کا شکر ادا کرنے کے بجائے موبائل ڈھونڈتا ہے اور دھندلی آنکھوں سے واٹس ایپ کے میسجز چیک کرتا ہے۔ نیند کی حالت میں موبائل چہرے پر گرنا اب ایک قومی حادثہ بن چکا ہے، جس سے ہر دوسرا شخص دن میں ایک بار ضرور گزرتا ہے۔

موبائل نے ہماری سوشل لائف کا تو جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ کسی زمانے میں جب مہمان آتے تھے تو چائے پانی اور حال احوال پوچھا جاتا تھا۔ اب جیسے ہی مہمان گھر میں قدم رکھتا ہے، اس کا پہلا سوال ہوتا ہے: "بھائی! وائی فائی (Wi-Fi) کا پاس ورڈ کیا ہے؟" اس کے بعد پورا کمرہ خاموش ہو جاتا ہے اور سب اپنے اپنے موبائل میں یوں مگن ہو جاتے ہیں جیسے کسی خفیہ مشن پر ہوں۔ اب ہم ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو بولنے کے بجائے میسج کر کے چائے مانگتے ہیں۔

کھانے کی میز پر تو صورتحال اور بھی دلچسپ ہوتی ہے۔ پرانے وقتوں میں کھانا گرم گرم کھایا جاتا تھا، لیکن اب کھانا پہلے "موبائل کو کھلایا" جاتا ہے! جب تک ڈش کی چار مختلف زاویوں سے تصاویر لے کر انسٹاگرام پر "فوڈ لوور" (FoodLover#) کا ہیش ٹیگ نہ لگا دیا جائے، تب تک کھائے گئے کھانے کا ہضم ہونا ناممکن لگتا ہے۔ سالن ٹھنڈا ہو جائے تو ہو جائے، لیکن تصویر کا اینگل خراب نہیں ہونا چاہیے۔

جہاں تک تعلقات کا سوال ہے، موبائل نے ہمیں دور کے لوگوں سے تو جوڑ دیا ہے لیکن پاس بیٹھے لوگوں سے بے خبر کر دیا ہے۔ رات کو جب سارا شہر سو رہا ہوتا ہے، تب ہماری نوجوان نسل موبائل کی نیلی روشنی میں منہ پر لحاف اوڑھے شارٹس اور ریلز (Reels) سکرول کر رہی ہوتی ہے۔ اور اگر غلطی سے انٹرنیٹ بند ہو جائے يا بیٹری ختم ہو جائے، تو انسان اچانک گھر والوں کے درمیان آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اسے پتہ چلتا ہے کہ: "ارے! میرے گھر والے تو کافی اچھے لوگ ہیں!"

خلاصہ یہ ہے کہ موبائل فون نے ہماری زندگی کو جتنا آسان بنایا ہے، اتنا ہی مزاحیہ اور عجیب بھی بنا دیا ہے۔ ہم اس کے اتنے غلام بن چکے ہیں کہ اب موبائل ہمیں چلاتا ہے، ہم موبائل کو نہیں چلاتے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ تمام تر برائیوں کے باوجود، اگر یہ آلہ دو گھنٹے کے لیے غائب ہو جائے تو دنیا ویران اور زندگی بالکل بے رنگ محسوس ہونے لگتی ہے!


تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement