دیسی شادیوں کا ماحول بھی عجیب اور پررونق ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں شادی کسی دو افراد کے ملن کا نام نہیں، بلکہ مفت کے کھانے، رشتہ داروں کی سیاست اور "بریانی" کے لیے لگنے والے جذبات کا ایک بڑا میلہ ہوتی ہے۔ شادی کا کارڈ ملتے ہی گھر میں ایک ہی سوال گونجتا ہے: "کھانے میں کیا ہوگا؟" اور جواب اگر "بریانی" ہو، تو سب کے چہروں پر عید جیسی خوشی چھا جاتی ہے۔
شادی کا ہال: انتظار کی سولی
شادی کی دعوت پر جانے کا سب سے مشکل مرحلہ "وقت کی پابندی" ہے۔ کارڈ پر لکھا ہوتا ہے رات 8 بجے، لیکن سب کو معلوم ہوتا ہے کہ کھانا رات 11 بجے سے پہلے نہیں کھلنے والا۔ ہال میں پہنچ کر مہمان ایک دوسرے کو یوں دیکھتے ہیں جیسے سب کسی بھوک ہڑتال کے بعد اکھٹے ہوئے ہوں۔ لوگ بار بار کچن کے دروازے کی طرف دیکھتے ہیں جہاں سے بریانی کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے۔ ہر گزرتا منٹ پیٹ میں چوہوں کی دوڑ کو تیز تر کر دیتا ہے۔
دلہا دلہن سے زیادہ بریانی کی فکر
شادی کے ہال میں چند لوگ دلہا اور دلہن کو مبارکباد دینے جاتے ہیں، لیکن اکثریت کی نظریں صرف کیٹرنگ والے عملے (Waiters) پر جمی ہوتی ہیں۔ جیسے ہی کوئی ویٹر بوفے ٹیبل کے پاس جا کر برتنوں سے کپڑا ہٹاتا ہے، پورے ہال میں ایک بجلی سی دوڑ جاتی ہے۔ لوگ یوں الرٹ ہو جاتے ہیں جیسے کسی نے خطرے کا سائرن بجا دیا ہو۔
کھانے پر "حملہ"
جیسے ہی اعلان ہوتا ہے "کھانا کھل گیا ہے"، ہال کا منظر کسی جنگی میدان کا روپ دھار لیتا ہے!
- لوگ اپنی کرسیوں سے یوں اٹھتے ہیں جیسے اولمپکس کی ریس شروع ہو گئی ہو۔
- پلیٹوں کا ڈھیر اٹھایا جاتا ہے اور بریانی کی دیگ کی طرف پیش قدمی کی جاتی ہے۔
- بریانی کی دیگ کے پاس پہنچ کر ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ بوٹی اور آلو اسی کی پلیٹ میں آئے۔
اس وقت بوٹی کے لیے جو جدوجہد ہوتی ہے، وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے تمام اخلاقیات بھول جاتے ہیں اور پلیٹ میں بریانی کا اتنا بڑا پہاڑ بنا لیتے ہیں کہ نیچے سے پلیٹ نظر آنا بند ہو جاتی ہے۔
رشتہ داروں کے رویے اور مفت کے طعنے
پیٹ بھر کر بریانی کھانے کے بعد بھی دیسی رشتہ داروں کا تسلی سے واپس جانا ناممکن ہوتا ہے۔ ہاتھ دھونے کے بعد تبصرے شروع ہوتے ہیں:
- "بریانی میں نمک تھوڑا کم تھا!"
- "بوٹی ذرا سخت تھی، ہمارے زمانے میں تو ایسی بریانی نہیں ہوتی تھی۔"
- "بوٹی صرف انکل کے بیٹوں کو مل رہی تھی، ہمیں تو بس چاول ہی ملے۔"
یعنی مفت کی بریانی پیٹ بھر کر کھانے کے بعد بھی کوئی نہ کوئی نقص نکالنا فرض سمجھا جاتا ہے۔
فوٹوگرافر اور مسکرانے کا عذاب
کھانے کے فوراً بعد جب انسان سنگین قسم کے "فوڈ کوما" (شدید نیند) میں جانے والا ہوتا ہے، تب اچانک سامنے فوٹوگرافر آ دھمکتا ہے اور کہتا ہے: "سر! تھوڑا مسکرائیں!" اب بندہ منہ میں دبی الائچی کے ساتھ مسکرائے یا اپنے سوجے ہوئے پیٹ کو سنبھالے۔
نتیجہ
ان تمام تر مزاحیہ اور عجائب سے بھرپور باتوں کے باوجود، دیسی شادیاں اور مفت کی بریانی ہماری ثقافت کا ایک خوبصورت حصہ ہیں۔ تمام شکوے شکایات کے باوجود، اگلی شادی کا کارڈ آتے ہی ہم سب پھر سے اسی جوش و خروش کے ساتھ بریانی کی دیگ پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں!
تبصرے (0)
Leave a Comment