خبریں

بوڑھی ویگن

بوڑھی ویگن

زندگی میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جو انسان کو ایک ہی وقت میں ہنساتے بھی ہیں اور رلاتے بھی ہیں۔ میرے لیے وہ دن کالج کے سالانہ امتحانات کا پہلا دن تھا، جب میری قسمت اور ایک زنگ آلود بوڑھی ویگن نے مل کر میرا وہ جلوس نکالا جو مجھے زندگی بھر نہیں بھولے گا۔

صبح کی ایمرجنسی اور بوڑھی ویگن کا نظارہ

امتحان کے پہلے دن میری آنکھ حسبِ معمول لیٹ کھلی۔ گھڑی دیکھی تو میرے طوطے اڑ گئے؛ پرچہ شروع ہونے میں صرف ۳۰ منٹ باقی تھے! میں نے کپڑے بدلے، پینسلیں جیب میں ٹھونسیں اور بغیر ناشتے کے گلی کی طرف بھاگا۔ سڑک پر پہنچتے ہی مجھے اپنے روٹ کی وہ تاریخی اور قدیم ویگن نظر آئی جو شاید بابر کے زمانے سے چلی آ رہی تھی۔ اس کا رنگ اڑ چکا تھا، بمپر لٹک رہا تھا اور اس سے نکلتا دھواں دیکھ کر لگتا تھا جیسے ویگن نہیں، کوئی کوئلے کا انجن آ رہا ہو۔

ویگن میں اینٹری اور "ہجومِ عاشقاں"

میں نے ہنگامی بنیادوں پر بھاگ کر ویگن کو روکا۔ اندر جھانکا تو پتہ چلا کہ ویگن میں پہلے ہی ۵۰ لوگ موجود تھے، جبکہ گنجائش صرف ۱۵ کی۔ لیکن امتحان کی جلدی میں، میں نے اپنے تمام اخلاقی اصولوں کو سائیڈ پر رکھا اور بس کے پائیدان پر ایک پاؤں رکھ کر لٹک گیا۔ ویگن ڈرائیور نے گاڑی ایسے جھٹکے سے آگے بڑھائی جیسے وہ فارمولا ون ریس جیتنا چاہتا ہو۔ اندر دیسی گانے فل والیوم پر چل رہے تھے اور ہر موڑ پر سواریاں ایک دوسرے کے اوپر یوں گر رہی تھیں جیسے ڈومینو (Dominoes) کا کھیل چل رہا ہو۔

وہ خوفناک موڑ اور پیر کا "شہید" ہونا

کالج سے چند منٹ کے فاصلے پر، جب ڈرائیور نے ایک تیز موڑ کاٹا، تو سامنے سے ایک سائیکل والا آ گیا۔ ڈرائیور نے اتنی زور سے بریک لگائی کہ پوری ویگن کی سواریاں زلزلے کی طرح آگے کی طرف گریں۔ اسی ہنگامے میں، ایک صاحب جن کا وزن کم از کم ۱۰۰ کلو تھا، اپنا پورا جسمانی توازن کھو بیٹھے۔ ان کا وزنی جوتا سیدھا میرے دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر آ کر گرا!

ایک سیکنڈ کے لیے مجھے اپنی روح جسم سے پرواز کرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک ساتھ تمام ستارے چمکنے لگے اور منہ سے ایسی چیخ نکلی کہ ویگن میں چلتا ہوا گانا بھی مدہم ہو گیا۔ درد کی شدت اتنی تھی کہ میں ایک ٹانگ پر ناچنے لگا اور آنکھوں سے گنگا جمنا (آنسو) جاری ہو گئے۔

لنگڑاتے ہوئے ہال تک کا سفر

کسی نہ کسی طرح ویگن سے اتر کر جب میں نے اپنے پاؤں کو دیکھا، تو وہ درد کے مارے سرخ ہو چکا تھا۔ وقت ختم ہو رہا تھا، اس لیے میں نے پاؤں گھسیٹتے اور لنگڑاتے ہوئے کالج کی طرف دوڑ لگائی۔ منظر ایسا تھا کہ ایک آنکھ سے امتحان کی پریشانی کا رونا نکل رہا تھا اور دوسری طرف میری لنگڑی چال دیکھ کر راستے میں کھڑے بچے کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔

امتحان کا ہال اور اختتام

میں پرچہ شروع ہونے کے ٹھیک دو منٹ بعد ہال میں داخل ہوا۔ نگران نے مجھے اس حال میں دیکھا—چہرے پر آنسو، کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے اور ایک پاؤں پر لنگڑاتا ہوا—تو اسے مجھ پر رحم آ گیا اور اس نے چپ چاپ مجھے بیٹھنے کی جگہ دے دی۔

اس دن پرچہ تو جیسا ہوا سو ہوا، لیکن اس بوڑھی ویگن اور ۱۰۰ کلو کے انکل نے مجھے یہ سبق ضرور سکھا دیا کہ امتحان کی تیاری کے ساتھ ساتھ صبح جلدی اٹھنا کتنا ضروری ہے!

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement