Déjà vu: دماغ کا ایک عجیب احساس یا ماضی کی کوئی جھلک؟
کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی ایسی جگہ گئے ہوں جہاں آپ پہلے کبھی نہ گئے ہوں، یا کوئی ایسی بات سنی ہو جو پہلی بار آپ کے کانوں میں پڑی ہو، لیکن آپ کو ایک دم سے یہ شدید احساس ہو کہ: "میں یہ لمحہ پہلے بھی جی چکا ہوں؟"
اس پراسرار کیفیت کو "ڈیجا (Déjà vu) کہتے ہیں، جو کہ ایک فرانسیسی فقرہ ہے جس کا مطلب ہے "پہلے سے دیکھا ہوا"۔ دنیا کے 60 سے 70 فیصد لوگ اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا تجربہ ضرور کرتے ہیں۔ جہاں آج کی جدید سائنس اسے دماغی نظام کی ایک چھوٹی سی اور بے ضرر سی غلطی قرار دیتی ہے، وہیں مذہبی روایات بالخصوص اسلامی نقطۂ نظر ہمیں اس سے ہٹ کر کچھ اور خوبصورت اور گہرے زاویے سجھاتا ہے۔
۱۔ عالمِ ارواح: غیب کی گونج
اگرچہ قرآن پاک اور سنت میں "Déjà vu" کی جدید اصطلاح موجود نہیں ہے، لیکن اسلامی مفکرین نے کچھ ایسی چیزوں پر روشنی ڈالی ہے جو اس احساس سے بہت گہرا تعلق رکھتی ہیں۔
اسلامی عقیدے کے مطابق، انسان کی زندگی اس دنیا میں پیدا ہونے سے شروع نہیں ہوتی۔ ہماری جسمانی پیدائش سے پہلے، تمام انسانوں کی روحیں عالمِ ارواح میں جمع کی گئی تھیں۔
جیسا کہ سورۃ الاعراف (آیت 172) میں اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے پوچھا تھا:"کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں۔"
کچھ علمائے کرام کا یہ ماننا ہے کہ اس ابتدائی عالم میں شاید روحوں کو ان کی مستقبل کی زندگی، سفر اور منزلوں کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئی تھی جب ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کسی ایسے منظر سے گزرتے ہیں، تو یہ اچانک مانوسیت کا احساس اسی پرانی یاد کی ایک مدہم سی گونج ہوتی ہے جو ہمارے دل و دماغ میں جاگ اٹھتی ہے۔
۲۔ خواب اور سچے خواب (رؤیا)
اس کا ایک اور دلچسپ تعلق نیند اور خوابوں کی اسلامی تشریح سے بھی ہے۔ اسلامی روایت میں خوابوں کی تین اقسام بتائی گئی ہیں:
- رؤیا (سچے خواب): وہ اچھے خواب جو اللہ کی طرف سے بشارت یا کسی راز کی طرح ہوتے ہیں۔
- حلم: شیطان کی طرف سے ڈراونے یا پریشان کن خواب۔
- نفسانی خیالات: جو باتیں دن بھر ہمارے ذہن میں چلتی رہتی ہیں، وہی خواب کی شکل میں آ جاتی ہیں۔
نیند کے دوران روح عارضی طور پر جسم سے تھوڑی آزاد ہوتی ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ انسان خواب میں مستقبل کا کوئی چھوٹا سا منظر، جگہ یا بات دیکھ لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ صبح اٹھ کر وہ خواب بالکل بھول جائیں، لیکن مہینوں یا سالوں بعد جب وہی بالکل ویسی ہی صورتحال حقیقت میں پیش آتی ہے، تو دماغ میں چھپا ہوا وہ پرانا خواب حرکت میں آ جاتا ہے—جس کی وجہ سے ہمیں Déjà vu کا احساس ہوتا ہے۔
۳۔ عاجزی اور جستجو کا درس
کا تجربہ ہمیں روح کی پیچیدگی اور اس کے رازوں کی یاد بھی دلاتا ہے۔ سورۃ الإسراء (آیت 85) میں اللہ تعالیٰ نے انسانی علم کی حدود کے بارے میں فرمایا ہے:
"اور وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔"
اس طرح کے لمحات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ انسانی شعور ہماری سوچ اور سائنس کی باریکیوں سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
سائنس کا نقطۂ نظر: دماغی نظام کی معمولی سی غلطی
اسلامی فکر ہمیں کائنات اور فطرت کے قوانین کو سمجھنے کا درس دیتی ہے۔ کسی چیز کو روحانی نظر سے دیکھنے کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ ہم سائنسی حقائق کا انکار کر دیں۔ درحقیقت، سائنس بھی اس بات کی واضح وضاحت کرتی ہے کہ دماغ یہ احساس کیسے پیدا کرتا ہے:
- وقت کی معمولی سی تاخیر (Dual Processing Delay): عام طور پر دماغ کسی بھی منظر کو دو مختلف طریقوں سے ایک ساتھ دیکھتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک راستہ مائیکرو سیکنڈ کے لیے بھی سست ہو جائے، تو دماغ کو وہی منظر دو بار ملتا ہے—جسے وہ حال کی بجائے ماضی کی پرانی یاد سمجھ لیتا ہے۔
- ہولوگرافک میموری: اگر کوئی نئی جگہ پرانی یاد سے ملتی جلتی ہو (جیسے کسی پھول کی خوشبو، روشنی یا کرسی کی ترتیب)، تو آپ کا پورا نیا منظر پرانی یاد کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
- emporal Lobe کا مسئلہ: دماغ کا وہ حصہ جو یادوں کو سنبھالتا ہے، وہاں اگر ہلکا سا برقی سگنل ادھر ادھر ہو جائے تو وہ موجودہ لمحے کو پرانی یاد سمجھ بیٹھتا ہے۔
مذہب اور سائنس کو مخالف سمجھنے کے بجائے، بہت سے لوگ انہیں ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو مانتے ہیں۔ سائنسی عمل ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دماغ اس لمحے کو کیسے محسوس کرتا ہے، جبکہ روحانی نظریات یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہمارا شعور اتنی گہری یادوں کی صلاحیت کیوں رکھتا ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment