وہ آخری خط جو ایک بیوہ آخری خط جو ایک بیٹے کی پوری زندگی بدل گیا
ایک پرانی یاد کا دروازہ
بارش کی ایک خاموش رات تھی۔ احمد کئی سال بعد اپنے والد کا پرانا کمرہ صاف کر رہا تھا۔ کمرے میں ہر چیز ویسی ہی تھی جیسے اس کے والد اسے چھوڑ کر گئے تھے۔ پرانی کرسی، کتابوں کی الماری اور میز پر رکھا ہوا چشمہ۔
احمد نے چشمہ ہاتھ میں لیا تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اسے اپنے والد کی آواز یاد آئی،
“بیٹا، محنت کبھی ضائع نہیں جاتی۔”
والد کا آخری خط
صفائی کرتے ہوئے اچانک ایک پرانا لکڑی کا ڈبہ نیچے گر گیا۔ اس میں ایک لفافہ تھا۔
لفافے پر لکھا تھا:
“میرے بیٹے احمد کے نام، جب میں اس کے پاس نہ ہوں۔”
احمد کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے آہستہ سے خط کھولا۔
“میرے بیٹے، اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو تو شاید میں تمہارے پاس نہیں ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سی باتیں تم سے نہیں کہیں، شاید اس لیے کہ باپ اکثر اپنے جذبات چھپا لیتا ہے۔
لیکن آج میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ تم میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھے۔”
احمد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
ایک باپ کی چھپی ہوئی محبت
خط میں لکھا تھا:
“مجھے یاد ہے جب تم چھوٹے تھے اور رات کو ڈر کر میرے پاس آ جاتے تھے۔ میں تمہیں اپنے پاس سلا لیتا تھا اور کہتا تھا کہ ڈرو نہیں، ابو تمہارے ساتھ ہیں۔
بیٹا، وقت گزر جائے گا۔ تم بڑے ہو جاؤ گے، مصروف ہو جاؤ گے، لیکن کبھی اپنے دل کو اتنا مصروف مت کرنا کہ کسی ضرورت مند کے لیے جگہ ہی نہ بچے۔
اگر کبھی کوئی تم سے مدد مانگے اور تم مدد کر سکتے ہو تو اسے خالی ہاتھ مت لوٹانا۔ شاید وہ شخص تمہارے پاس میری طرف سے آیا ہو۔”
احمد خط پڑھتے پڑھتے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے والد نے ساری زندگی اپنے جذبات الفاظ کے بجائے اپنے عمل سے ظاہر کیے تھے۔
ایک خاموش وعدہ
اگلی صبح احمد دفتر جاتے ہوئے ایک بوڑھے شخص کے پاس رکا۔ بارش شروع ہو چکی تھی اور بوڑھا شخص سڑک کنارے بھیگ رہا تھا۔
احمد نے اپنی چھتری اس کے ہاتھ میں دے دی اور خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔
چند قدم چلنے کے بعد وہ رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا:
“ابو، آج میں نے آپ کی بات مان لی۔”
محبت جو ہمیشہ زندہ رہتی ہے
اس دن احمد کو سمجھ آیا کہ کچھ لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ہمیں حقیقت میں کبھی چھوڑ کر نہیں جاتے۔
وہ ہماری یادوں، دعاؤں اور اچھے کاموں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اور کبھی کبھی ایک چھوٹا سا خط، انسان کو وہ سبق دے جاتا ہے جو پوری زندگی بھی نہیں سکھا پاتی۔
تبصرے (0)
Leave a Comment