کھیل

اندھا کنواں

اندھا کنواں

اندھا کنواں

ایک گاؤں میں حارث نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت ذہین تھا، مگر جلدی دوسروں کی باتوں پر یقین کر لیتا تھا۔ گاؤں کے بزرگ اسے اکثر سمجھاتے، “بیٹا! ہر سنی سنائی بات کو سچ نہ سمجھا کرو، پہلے حقیقت معلوم کیا کرو۔”

ایک دن حارث اپنے دوستوں کے ساتھ جنگل کے قریب کھیل رہا تھا۔ اچانک اسے ایک آدمی کی آواز سنائی دی، “اس کنویں میں خزانہ چھپا ہوا ہے! جو اسے تلاش کرے گا، وہ بہت امیر ہو جائے گا!”

حارث نے آواز کی طرف دیکھا، مگر وہاں کوئی شخص نظر نہ آیا۔ اس کے دوستوں نے کہا، “شاید یہ کسی مسافر کی آواز تھی۔” حارث نے فوراً فیصلہ کیا کہ کنویں میں ضرور خزانہ موجود ہے۔

وہ دوڑ کر گاؤں گیا اور اپنے والد سے رسی مانگی۔ والد نے پوچھا، “رسی کس لیے چاہیے؟” حارث نے جواب دیا، “جنگل کے پرانے کنویں میں خزانہ چھپا ہے۔ میں اسے نکالنے جا رہا ہوں۔”

والد نے حیرت سے کہا، “تمہیں یہ بات کس نے بتائی؟” حارث نے کہا، “میں نے کسی کو آواز لگاتے سنا تھا، مگر وہ شخص مجھے نظر نہیں آیا۔”

والد نے اسے سمجھایا، “صرف آواز سن کر کسی بات پر یقین کرنا عقلمندی نہیں۔ پہلے اس جگہ کو دیکھنا اور معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔”

لیکن حارث نے والد کی بات نہ مانی۔ وہ رسی لے کر اپنے دوستوں کے ساتھ جنگل پہنچ گیا۔ پرانا کنواں جھاڑیوں سے گھرا ہوا تھا۔ حارث نے بغیر سوچے رسی باندھی اور کنویں میں اترنے لگا۔

کچھ ہی لمحوں بعد رسی ایک خشک شاخ سے رگڑ کھا کر ٹوٹ گئی۔ حارث نیچے جا گرا۔ خوش قسمتی سے کنویں میں زیادہ گہرائی تک پانی نہیں تھا، مگر وہ زخمی ہو گیا۔ اس کے دوست مدد کے لیے گاؤں کی طرف دوڑے۔

والد اور گاؤں کے چند لوگ فوراً وہاں پہنچے اور حارث کو باہر نکالا۔ حارث درد سے کراہتے ہوئے بولا، “ابا جان! مجھے معاف کر دیں۔ مجھے پہلے حقیقت معلوم کرنی چاہیے تھی۔”

والد نے پیار سے کہا، “غلطی سے سبق سیکھ لینا ہی اصل سمجھ داری ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں۔ اگر ہم بغیر تحقیق کے ہر بات مان لیں تو نقصان اٹھا سکتے ہیں۔”

بعد میں گاؤں والوں نے معلوم کیا کہ وہ آواز دراصل ایک پرانے ریڈیو سے آ رہی تھی جو جھاڑیوں میں پھنس گیا تھا۔ اس میں خزانے کے بارے میں ایک ڈراما نشر ہو رہا تھا۔ حارث کو اپنی جلد بازی پر بہت افسوس ہوا۔

اس دن کے بعد وہ کسی بھی خبر یا بات پر فوراً یقین نہیں کرتا تھا۔ پہلے سوال پوچھتا، حقیقت معلوم کرتا اور پھر فیصلہ کرتا۔

اخلاقی سبق: ہر سنی سنائی بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ کسی بھی بات کو ماننے سے پہلے تحقیق اور غور و فکر ضروری ہے۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement