کھیل

خالی تاج

خالی تاج

خالی تاج

ایک بادشاہ تھا جو اپنی سلطنت میں سب سے زیادہ عقلمند شخص تلاش کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ عقل صرف کتابیں پڑھنے یا مشکل سوالوں کے جواب دینے کا نام نہیں، بلکہ اپنی غلطی کو تسلیم کرنے اور دوسروں سے سیکھنے کا نام بھی ہے۔

ایک دن بادشاہ نے اعلان کیا، “جو شخص اپنی دانائی ثابت کرے گا، اسے سونے کا تاج اور سلطنت کا سب سے بڑا عہدہ دیا جائے گا۔”

دور دور سے کئی لوگ محل میں پہنچے۔ کوئی مشکل پہیلیاں حل کر رہا تھا، کوئی لمبی تقریریں کر رہا تھا، اور کوئی اپنی دولت اور تعلیم پر فخر کر رہا تھا۔

بادشاہ نے سب کو ایک ایک صندوق دیا اور کہا، “اس صندوق کو کھولے بغیر بتاؤ کہ اس کے اندر کیا ہے۔”

لوگوں نے صندوق کو غور سے دیکھا۔ ایک شخص نے کہا، “اس میں سونا ہے۔” دوسرے نے کہا، “اس میں قیمتی جواہر ہیں۔” تیسرے نے دعویٰ کیا، “اس میں ایک نایاب کتاب موجود ہے۔”

بادشاہ نے پوچھا، “تمہیں کیسے معلوم؟”

سب نے مختلف اندازے پیش کیے، مگر کوئی بھی اپنی لاعلمی ماننے کو تیار نہ تھا۔

اسی دوران ایک غریب کسان کا بیٹا، سلیم، آگے بڑھا۔ بادشاہ نے اس سے بھی یہی سوال کیا۔ سلیم نے سر جھکا کر جواب دیا، “بادشاہ سلامت! میں نہیں جانتا کہ صندوق میں کیا ہے۔ اسے کھولے بغیر درست جواب دینا ممکن نہیں۔”

دربار میں موجود لوگ ہنسنے لگے۔ ایک شخص نے کہا، “یہ کیسا عقلمند ہے جو جواب ہی نہیں دے سکتا؟”

بادشاہ مسکرایا اور بولا، “خاموش رہو۔ سلیم نے سب سے دانائی کی بات کہی ہے۔ اس نے ایسی چیز کے بارے میں جھوٹا دعویٰ نہیں کیا جسے وہ جانتا ہی نہیں تھا۔”

پھر بادشاہ نے صندوق کھولا۔ اس میں ایک عام سا پتھر تھا۔ بادشاہ نے کہا، “جو شخص اپنی لاعلمی تسلیم کر سکتا ہے، وہی حقیقت سیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ جھوٹا اعتماد انسان کو غلط راستے پر لے جاتا ہے، مگر سچائی اسے علم کی طرف لے جاتی ہے۔”

بادشاہ نے سلیم کو سونے کا تاج پہنانا چاہا۔ لیکن جب تاج اس کے سر پر رکھا گیا تو وہ زمین پر گر پڑا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ درباری حیران رہ گئے۔

سلیم نے کہا، “بادشاہ سلامت! شاید تاج مضبوط نہیں تھا۔”

بادشاہ نے جواب دیا، “نہیں، یہ تاج جان بوجھ کر خالی اور کمزور بنایا گیا تھا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم اپنی کامیابی پر غرور کرتے ہو یا نہیں۔”

سلیم نے فوراً کہا، “اگر میں نے کوئی دانائی دکھائی ہے تو یہ میری نہیں، میرے والدین اور استادوں کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔”

بادشاہ اس جواب سے بہت خوش ہوا۔ اس نے سلیم کو سلطنت کا مشیر مقرر کر دیا۔

اخلاقی سبق: اپنی غلطی یا لاعلمی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ حقیقی دانائی اور عاجزی کی علامت ہے۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement