کھیل

خالی جھولا

خالی جھولا


خالی جھولا


سعدیہ کے گھر میں ایک چھوٹا سا جھولا لٹکا تھا۔ لکڑی کا تھا، سفید رنگ کا، اور اس پر چھوٹے چھوٹے پھول بنے ہوئے تھے۔

یہ جھولا اس نے 9 مہینے پہلے منگوایا تھا۔ ہر روز صفائی کرتی، کبھی اس میں گڑیا لٹا دیتی، کبھی خود بیٹھ کر سوچتی "میرا بچہ اس میں کیسے سوئے گا"۔

لیکن وقت گزرتا گیا۔ جھولا خالی کا خالی رہا۔

ساس کہتیں "بیٹا صبر کرو، اللہ بہتر کرے گا"۔  
سہیلیاں بچوں کی تصویریں بھیجتیں۔ سعدیہ مسکرا کر جواب دیتی، اور رات کو چپکے سے رو لیتی۔

ایک دن وہ جھولا صاف کر رہی تھی تو آنسو ٹپک کر لکڑی پر گر گئے۔ اس نے جھولا ہلایا۔ چوں چوں کی آواز آئی۔ اور سعدیہ نے سوچا "کاش یہ آواز میرے بچے کی ہو"۔

مہینے اور گزرے۔ پھر ایک دن ڈاکٹر نے خوشخبری سنائی۔  
سعدیہ بھاگ کر گھر آئی اور سب سے پہلے اسی جھولے کو چوما۔

9 مہینے بعد اسی جھولے میں ایک ننھا سا وجود تھا۔ گلابی گال، بند آنکھیں، اور چھوٹی چھوٹی سانسیں۔

سعدیہ جھولا ہلاتی اور رو دیتی۔ لیکن اس بار خوشی سے۔  
ساس پاس بیٹھ کر کہتیں "دیکھا، صبر کا پھل کتنا میٹھا ہوتا ہے"۔

آج وہ جھولا خالی نہیں ہے۔ اس میں زندگی ہے، ہنسی ہے، اور ایک ماں کی دعائیں ہیں۔

کبھی کبھی رات کو جب بچہ سو جاتا ہے، سعدیہ پھر بھی جھولے کو آہستہ سے ہلا دیتی ہے۔ جیسے ان 9 مہینوں کا انتظار پورا کر رہی ہو۔

 اللہ کی ہر چیز میں بہتری ہے۔ خالی جھولا بھی ایک دن بھر جاتا ہے، بس صبر اور یقین چاہیے۔


تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement