کھیل

خاموش گھڑی

خاموش گھڑی

خاموش گھڑی

حمزہ ایک ذہین مگر لاپرواہ لڑکا تھا۔ وہ ہر کام کو بعد میں کرنے کی عادت رکھتا تھا۔ اس کی والدہ اکثر اسے سمجھاتیں، “بیٹا! وقت بہت قیمتی ہے۔ جو وقت گزر جائے، وہ واپس نہیں آتا۔”

حمزہ مسکرا کر جواب دیتا، “امی! ابھی تو بہت وقت ہے۔ میں اپنا کام بعد میں کر لوں گا۔”

اسکول میں اگلے ہفتے تقریری مقابلہ ہونے والا تھا۔ استاد نے حمزہ کو “وقت کی پابندی” کے موضوع پر تقریر کرنے کے لیے منتخب کیا۔ حمزہ بہت خوش ہوا، لیکن اس نے تقریر کی تیاری اسی دن شروع کرنے کے بجائے اسے ٹالتا رہا۔ پہلے وہ دوستوں کے ساتھ کھیلنے لگا، پھر موبائل پر ویڈیوز دیکھنے لگا۔ ہر روز وہ خود سے کہتا، “کل سے ضرور تیاری کروں گا۔”

اس کی دادی نے اسے ایک خوبصورت پرانی گھڑی دی اور کہا، “یہ گھڑی تمہارے دادا کی نشانی ہے۔ اسے سنبھال کر رکھنا اور اس کی آواز سن کر وقت کی قدر کرنا۔”

حمزہ نے گھڑی میز پر رکھ دی، مگر اپنی عادت نہ بدلی۔ مقابلے سے ایک دن پہلے اسے یاد آیا کہ تقریر ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔ وہ جلدی جلدی لکھنے بیٹھا، لیکن اچانک گھڑی رک گئی۔ حمزہ نے اسے ہلایا، چابی لگائی، مگر گھڑی دوبارہ نہ چلی۔

وہ گھبرا کر دادی کے پاس گیا۔ دادی نے گھڑی دیکھی اور بولیں، “گھڑی رکنے کی وجہ یہ نہیں کہ وقت رک گیا ہے۔ وقت تو مسلسل چلتا رہتا ہے۔ تم نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت ضائع کیا ہے، اس لیے اب گھڑی تمہیں ایک سبق دے رہی ہے۔”

حمزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے پوری رات محنت کی اور تقریر تیار کی، مگر وہ مکمل طور پر یاد نہ کر سکا۔ اگلے دن وہ مقابلے میں دیر سے پہنچا۔ جب اس کی باری آئی تو وہ کئی جملے بھول گیا۔ اگرچہ اس نے سچائی اور محنت سے تقریر مکمل کی، لیکن وہ مقابلہ نہ جیت سکا۔

گھر واپس آ کر حمزہ نے دادی سے معذرت کی۔ اس نے اپنی پڑھائی، کھیل اور آرام کا روزانہ کا شیڈول بنایا۔ اب وہ کام کو ٹالتا نہیں تھا۔ کچھ دن بعد دادی نے گھڑی دوبارہ درست کروا دی۔ جب گھڑی چلنے لگی تو حمزہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے اسے وقت کی نئی قدر مل گئی ہو۔

اس دن کے بعد حمزہ ہمیشہ کہتا تھا، “وقت ایک خاموش گھڑی کی طرح ہے۔ جب تک یہ چل رہا ہو، ہمیں اس کی آواز سن لینی چاہیے۔”

اخلاقی سبق: وقت بہت قیمتی ہے۔ اسے ضائع کرنے والا شخص بعد میں پچھتا سکتا ہے، مگر گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement