ٹوٹا ہوا کھلونا
علی کا بیٹا حمزہ 4 سال کا تھا۔ اس کا سب سے پسندیدہ کھلونا ایک سرخ رنگ کی کار تھی۔ ہر وقت اسی سے کھیلتا۔ سوتے وقت بھی ساتھ رکھتا۔
ایک دن مہمان آئے۔ ان کا بیٹا احمد بھی حمزہ کا ہم عمر تھا۔ احمد نے وہ کار اٹھائی اور زور سے پھینک دی۔ ٹھک کی آواز آئی اور کار کے 2 ٹکڑے ہو گئے۔
حمزہ چیخ کر رونے لگا۔ "میری کار! میری کار!"
علی نے فوراً احمد کے ابو سے معافی مانگی۔ مہمان شرمندہ ہو گئے۔ احمد کے ابو نے کہا "بھائی میں نئی دلا دوں گا"۔
رات کو حمزہ نے کھانا نہیں کھایا۔ ٹوٹی ہوئی کار سینے سے لگا کر بیٹھا رہا۔ علی نے کہا "بیٹا کل نئی لے دیں گے"۔
حمزہ بولا "نہیں ابو، مجھے یہی والی چاہیے۔ یہ میرے ساتھ تھی"۔
علی کا دل بھر آیا۔ وہ رات بھر جاگ کر Fevicol اور ٹیپ سے کار جوڑتا رہا۔ صبح تک کار ٹھیک تو نہ ہوئی، لیکن چلنے کے قابل ہو گئی۔
علی نے حمزہ کو کار دی۔ حمزہ نے ایک نظر دیکھی، پھر مسکرا کر ابو کے گلے لگ گیا۔ بولا "ابو آپ سب سے اچھے ہیں"۔
شام کو علی نے احمد کو بھی بلایا۔ دونوں بچوں کو ساتھ بٹھا کر بولا "دیکھو بیٹا، چیز ٹوٹ جائے تو نئی آ جاتی ہے۔ لیکن دل ٹوٹ جائے تو وہ نہیں جڑتا۔ کھلونوں سے پیار کرو، لیکن ایک دوسرے سے لڑو مت"۔
اس دن کے بعد حمزہ نے اپنی ٹوٹی ہوئی کار احمد کو بھی کھیلنے کے لیے دے دی۔ دونوں فرش پر بیٹھ کر ساتھ کھیلتے۔
کچھ دن بعد وہ کار پھر ٹوٹ گئی۔ حمزہ رویا نہیں۔ صرف بولا "کوئی بات نہیں ابو، ہم نئی بنا لیں گے"۔
چیزوں سے نہیں، رشتوں سے پیار کرو۔ کھلونا ٹوٹ جائے تو غم نہیں، لیکن اگر ضد اور لڑائی سے دل ٹوٹ جائیں تو وہ واپس نہیں آتے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment