کھیل

ایک آخری کوشش

ایک آخری کوشش


لاہور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والا احمد ایک عام سا لڑکا تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی بڑی ڈگری تھی، نہ پیسہ۔ لیکن اس کے دل میں ایک خواب تھا—ایسا سستا اور مضبوط واٹر فلٹر بنانا جو غریب لوگوں کے کام آ سکے۔ گاؤں میں پانی خراب تھا، بچے بیمار پڑتے رہتے تھے۔

احمد نے پرانے بیٹری کے پرزے، پلاسٹک کی بوتلیں اور چارکول جمع کرنا شروع کیا۔ مہینوں کی محنت کے بعد اس نے پہلا فلٹر بنایا۔ جب گاؤں والوں کو دکھایا تو سب ہنس پڑے۔

“یہ کیا بکواس ہے؟ بڑے بڑے کمپنیوں کے فلٹر بھی کام نہیں کرتے۔ تو کیا کر لے گا؟”

احمد نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے فلٹر درست کیا، دوبارہ آزمایا۔ دوسری بار پانی صاف آیا، لیکن فلٹر جلد ٹوٹ گیا۔ تیسری، چوتھی، پانچویں کوشش بھی ناکام رہی۔

 گھر والے غصے میں آ گئے۔ باپ نے کہا، “اب بس کر۔ کھیت میں کام کر، ورنہ گھر سے نکل جا۔”

ایک رات احمد نے فیصلہ کیا کہ یہ آخری کوشش ہوگی۔ اس نے نئے طریقے سے سوچا—مقامی مٹی اور قدرتی پتھروں کا استعمال کیا۔ پورے ہفتے بغیر سوئے محنت کی۔

 جب فلٹر تیار ہوا تو اس نے خود پہلے پانی پی کر آزمایا۔ پانی بلکل صاف اور میٹھا تھا۔

صبح گاؤں والوں کو بلایا۔ سب شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ جب ایک بوڑھے آدمی نے پانی پیا اور مسکرا کر کہا “یہ تو اصلی صاف پانی ہے!”، تو ماحول بدل گیا۔

 ایک ایک کر کے سب نے آزمایا۔ بچوں نے خوشی سے شور مچایا۔

آہستہ آہستہ احمد کا فلٹر پورے علاقے میں مشہور ہو گیا۔ ایک غیر سرکاری ادارے نے اسے دیکھا اور مدد کی۔ آج احمد کا چھوٹا سا کارخانہ ہے جہاں وہ سستے فلٹر بناتا ہے اور کئی گاؤں کو صاف پانی فراہم کرتا ہے۔

لوگ اب اس سے پوچھتے ہیں، “تم نے ہمت کیسے نہیں ہاری؟”

احمد مسکرا کر جواب دیتا ہے، “ناکامی نے مجھے نہیں توڑا، بلکہ سکھایا۔ ہر بار جب میں گرا، میں نے کچھ نیا سیکھا۔ آخری کوشش وہ نہیں ہوتی جو آخر میں کی جائے، بلکہ وہ ہوتی ہے جس کے بعد آپ ہار نہیں مانتے۔”


ناکامی کوئی انجام نہیں، بلکہ کامیابی کی سیڑھی ہے۔ جو شخص بار بار گرکر بھی اٹھتا رہے اور سیکھتا رہے، وہی اصل کامیاب ہوتا ہے۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement