صحت

ٹوٹا ہوا آئینہ

ٹوٹا ہوا آئینہ

ٹوٹا ہوا آئینہ

زید ایک خوبصورت مگر بہت مغرور لڑکا تھا۔ اسے اپنے چہرے اور لباس پر بہت ناز تھا۔ وہ ہر روز دیر تک آئینے کے سامنے کھڑا رہتا اور اپنے دوستوں سے کہتا، “مجھ جیسا خوبصورت لڑکا اس پورے گاؤں میں نہیں ہے۔”

زید دوسروں کی شکل و صورت کا مذاق بھی اڑاتا تھا۔ اگر کسی کے کپڑے پرانے ہوتے تو وہ اسے غریب کہہ کر چھیڑتا، اور اگر کسی کے چہرے پر کوئی نشان ہوتا تو اس پر ہنستا۔ اس کے دوستوں کو زید کا یہ رویہ پسند نہیں تھا، لیکن وہ اس سے بحث کرنے سے ڈرتے تھے۔

ایک دن زید کی والدہ نے اسے ایک خوبصورت نیا آئینہ دیا۔ آئینہ لکڑی کے نفیس فریم میں لگا ہوا تھا۔ والدہ نے کہا، “بیٹا! یہ آئینہ تمہیں صرف اپنا چہرہ نہیں، بلکہ اپنی عادتیں بھی دکھائے۔”

زید نے آئینے میں دیکھا اور مسکرایا۔ اسی وقت اس کا چھوٹا بھائی کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں مٹی لگی ہوئی تھی۔ زید نے اسے دیکھ کر کہا، “تم کتنے گندے لگ رہے ہو! میرے کمرے سے باہر جاؤ۔”

چھوٹا بھائی اداس ہو کر باہر چلا گیا۔ زید نے غصے میں میز پر ہاتھ مارا۔ میز ہل گئی اور نیا آئینہ زمین پر گر کر ٹوٹ گیا۔

زید نے ٹوٹے ہوئے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ شیشے کے ہر ٹکڑے میں اس کا چہرہ مختلف دکھائی دے رہا تھا۔ کہیں اس کی آنکھ بڑی لگ رہی تھی، کہیں ناک ٹیڑھی اور کہیں چہرہ بکھرا ہوا۔

وہ گھبرا کر والدہ کے پاس گیا اور بولا، “امی! آئینہ ٹوٹ گیا ہے۔ اب میرا چہرہ صحیح نظر نہیں آتا۔”

والدہ نے نرمی سے کہا، “بیٹا! چہرہ تو تمہارا وہی ہے، صرف آئینہ ٹوٹا ہے۔ لیکن تم دوسروں کے بارے میں بھی ایسا ہی فیصلہ کرتے ہو۔ تم لوگوں کی ایک چھوٹی خامی دیکھ کر ان کی پوری شخصیت کو برا سمجھ لیتے ہو۔”

زید خاموش ہو گیا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ دوسروں کو ان کی ظاہری شکل، لباس اور غلطیوں کی بنیاد پر پرکھتا تھا۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو بلایا اور اس سے معافی مانگی۔

اگلے دن وہ بازار گیا اور ایک نیا آئینہ خریدنے کے بجائے اپنے بھائی کے لیے نئے کپڑے لے آیا۔ جب دوستوں نے اس سے پوچھا کہ تم بدل کیوں گئے ہو، تو زید نے جواب دیا، “اچھا انسان وہ نہیں جو صرف خوبصورت نظر آئے، بلکہ وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔”

اس دن کے بعد زید نے کسی کا مذاق نہیں اڑایا۔ وہ ہر شخص کی عزت کرنے لگا اور اسے سمجھ آ گیا کہ اصل خوبصورتی چہرے میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔

اخلاقی سبق: دوسروں کی ظاہری شکل یا کمزوریوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اچھے اخلاق میں ہوتی ہے۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement