چھوٹی سی انگلی
رائمہ کا بیٹا ارحم ابھی پندرہ دن کا تھا۔ پہلا بچہ تھا اس لیے گھر میں خوشی بھی تھی اور گھبراہٹ بھی۔
ایک رات دو بجے ارحم زور زور سے رونے لگا۔ رائمہ اٹھی، دودھ پلایا، جھولا جھلایا، مالش کی۔ لیکن بچہ چپ ہی نہ ہوا۔ اس کا چھوٹا سا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ رائمہ کا دل گھبرانے لگا۔
"نظر تو نہیں لگ گئی؟" ساس نے کہا۔
"گیس ہوگی" ساس نے کہا۔
رائمہ نے سب کچھ آزما لیا۔ تھک کر وہ بچے کو سینے سے لگا کر بیٹھ گئی اور رونے لگی۔
تبھی اس نے دیکھا، ارحم نے اپنی چھوٹی سی انگلی نکال کر رائمہ کی شہادت کی انگلی پکڑ لی۔ اتنی چھوٹی سی انگلی، رائمہ کی انگلی کا صرف آدھا حصہ۔ لیکن اس پکڑ میں اتنی طاقت تھی، اتنا بھروسہ تھا۔
جیسے ہی ارحم نے ماں کی انگلی پکڑی، اس کا رونا آہستہ آہستہ کم ہونے لگا۔ دو منٹ میں وہ بالکل خاموش ہو گیا۔ رائمہ کی انگلی پکڑ کر وہ سو گیا۔
رائمہ اس رات سوچتی رہی۔ ڈاکٹر، دوائی، جھولا، مالش... کچھ کام نہ آیا۔ صرف ایک چھوٹی سی انگلی کے احساس نے اس کے بچے کو سکون دے دیا۔
صبح اس نے یہ بات اپنی امی کو بتائی۔ امی مسکرائیں اور بولیں: "بیٹا، بچے کو دوائی سے پہلے ماں چاہیے ہوتی ہے۔ اسے دنیا میں سب سے محفوظ جگہ ماں کا سینہ اور ماں کا ہاتھ لگتا ہے۔ تمہاری انگلی اس کے لیے پوری دنیا ہے۔"
اس دن کے بعد رائمہ نے سیکھ لیا۔ جب بھی ارحم روتا، وہ پہلے اسے گود میں اٹھاتی، سینے سے لگاتی، اور اپنی انگلی اس کے ہاتھ میں دے دیتی۔ نوے فیصد بار بچہ ایک منٹ میں چپ ہو جاتا۔
مہینے گزر گئے۔ ارحم بڑا ہو گیا۔ اب وہ خود چلتا ہے، بھاگتا ہے۔ لیکن آج بھی جب اسے ڈر لگتا ہے یا چوٹ لگتی ہے، تو سب سے پہلے دوڑ کر ماں کے پاس آتا ہے اور ماں کی انگلی پکڑ لیتا ہے۔
پڑوسی کہتے ہیں "اس کا لاڈ نہ بگاڑ دینا"۔
رائمہ کہتی ہے "یہ لاڈ نہیں ہے۔ یہ بھروسہ ہے۔ یہ وہ ڈور ہے جو ماں اور بچے کو جوڑ کر رکھتی ہے۔"
آج بھی رائمہ جب رات کو ارحم کو سلاتی ہے، تو وہ اس کی چھوٹی سی ہتھیلی اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے۔ وہ نرم نرم انگلیاں اسے یاد دلاتی ہیں کہ ماں ہونا کیا ہوتا ہے۔
ماں کی محبت سے بڑا کوئی مرہم نہیں۔ ایک چھوٹی سی انگلی کا احساس بھی بچے کا سارا درد بھلا سکتا ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment