ہم سب تھکے ہوئے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہ تھکن صرف کام سے نہیں آتی۔
آپ 8 گھنٹے سوتے ہیں۔ دفتر میں زیادہ بھاگ دوڑ بھی نہیں۔ پھر بھی صبح اٹھ کر لگتا ہے جیسے رات بھر اینٹیں اٹھائی ہیں۔ دماغ دھندلا، جسم بھاری، اور موڈ آف۔ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو رپورٹس نارمل۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟
مسئلہ جسم میں نہیں، دماغ میں ہے۔ مسئلہ ہے "سوچوں کے شور" میں۔
سوچوں کا شور کیا ہے؟
سوچوں کا شور وہ مسلسل چلتی ہوئی ریڈیو ہے جو ہمارے سر میں 24 گھنٹے بجتی رہتی ہے۔
"کل باس کیا کہے گا؟"
"بچوں کا فیوچر کیسے بنے گا؟"
"وہ میسج کا جواب کیوں نہیں آیا؟"
"پیسے پورے ہوں گے یا نہیں؟"
یہ سوچیں نہ کوئی حل دیتی ہیں نہ ختم ہوتی ہیں۔ بس چلتی رہتی ہیں۔ اسے سائنس میں Rumination کہتے ہیں۔ اور یہ دماغ کے لیے میراتھن دوڑنے کے برابر ہے۔
دماغ تھکے گا تو جسم کیسے آرام کرے گا؟
ہمارا جسم رات کو 11 بجے سے 3 بجے تک خود کو repair کرتا ہے۔ اسے Deep Sleep چاہیے۔ لیکن جب دماغ شور کر رہا ہو تو جسم light sleep میں رہتا ہے۔ آپ سو تو جاتے ہیں، لیکن recover نہیں کرتے۔
اسی لیے اٹھ کر لگتا ہے نیند پوری نہیں ہوئی۔
اسی لیے دوپہر 3 بجے بے وجہ تھکن ہوتی ہے۔
اسی لیے چھوٹی چھوٹی بات پر چڑچڑا پن آ جاتا ہے۔
اسے کہتے ہیں Chronic Fatigue۔ اور اس کی 70% وجہ جسمانی نہیں، ذہنی ہوتی ہے۔
3 علامات جو بتاتی ہیں آپ "سوچ کر تھک" گئے ہیں
1. نیند کے بعد بھی تھکن
8 گھنٹے سو کر بھی ایسا لگے جیسے سوئے ہی نہیں۔
2. فوکس نہ ہونا:
ایک کام کرتے ہوئے دماغ 10 اور جگہ بھٹک رہا ہو۔
3. بے وجہ بے چینی:
کوئی وجہ نہیں لیکن دل گھبرا رہا ہو۔
اگر یہ 3 نشانیاں ہیں تو آپ کا جسم نہیں، آپ کا دماغ تھکا ہوا ہے۔
دماغ کا شور بند کرنے کے 3 مفت طریقے
1. "فکر کا وقت" مقرر کریں
دن میں 15 منٹ نکالیں۔ بس اسی وقت میں ساری فکریں سوچیں۔ باقی 23 گھنٹے 45 منٹ میں جب سوچ آئے تو خود سے کہیں "شام 7 بجے سوچوں گا"۔ دماغ کو boundary مل جائے گی۔
2. سوچوں کو کاغذ پر نکالیں
رات کو سونے سے پہلے 5 منٹ لکھیں۔ جو بھی دماغ میں چل رہا ہے۔ کاغذ پر نکلتے ہی دماغ ہلکا ہو جاتا ہے۔ اسے Brain Dump کہتے ہیں۔
3. 10 منٹ کی خاموش واک
فون بند، میوزک بند۔ بس چلیں۔ سانس پر توجہ دیں۔ چلنے سے دماغ کا شور کم ہوتا ہے اور جسم میں endorphins بنتے ہیں جو قدرتی painkiller ہیں۔
ہم تھکن کا علاج کافی، painkiller اور ویک اینڈ سے کرتے ہیں۔ لیکن اصل علاج خاموشی ہے۔
یاد رکھیں: آپ کے پاس 2 تھکاوٹیں ہیں۔ ایک جسم کی جو آرام سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ دوسری دماغ کی جو صرف سکون سے ٹھیک ہوتی ہے۔
جب تک آپ سوچوں کا شور بند نہیں کریں گے، کوئی نیند، کوئی چھٹی، کوئی دوا آپ کو راحت نہیں دے گی۔
اس لیے آج رات سونے سے پہلے خود سے پوچھیں: "کیا میں تھکا ہوا ہوں، یا میں نے خود کو سوچ سوچ کر تھکا دیا ہے؟"
جواب مل گیا تو آدھی تھکاوٹ وہیں ختم۔
تبصرے (0)
Leave a Comment