زندگی کا سفر ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔ اس راستے میں کبھی کامیابی کے پھول ملتے ہیں تو کبھی ناکامی کے کانٹے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ناکامی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ ایک دیوار ہے جو ہمارا راستہ روک دیتی ہے، یا یہ ایک سیڑھی ہے جو ہمیں اوپر لے جاتی ہے؟
اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے تمام کامیاب لوگوں کی زندگی ناکامیوں سے بھری ہوئی ہے۔ تھامس ایڈیسن نے بلب بنانے سے پہلے ایک ہزار سے زیادہ بار ناکامی کا سامنا کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اتنی بار ناکامی کے بعد ہمت کیسے نہ ہاری تو انہوں نے کہا: "میں ناکام نہیں ہوا۔ میں نے صرف 1000 طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے۔" ان کے لیے ہر ناکامی ایک سبق تھی، ایک سیڑھی تھی جو انہیں کامیابی کے قریب لے جا رہی تھی۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ناکامی کو اپنی ذات سے جوڑ لیتے ہیں۔ ایک امتحان میں فیل ہو جائیں تو کہتے ہیں "میں نالائق ہوں"۔ ایک کاروبار میں نقصان ہو جائے تو کہتے ہیں "میں ناکام انسان ہوں"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ناکامی آپ نہیں ہے۔ ناکامی صرف ایک واقعہ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ یہ طریقہ کام نہیں آیا، کوئی اور طریقہ آزماؤ۔
ناکامی دراصل قدرت کا سب سے بڑا استاد ہے۔ کتابوں سے جو نہیں سیکھا جاتا وہ ناکامی ایک بار میں سکھا دیتی ہے۔ جب ہم گرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کہاں غلطی ہوئی۔ ہمیں اپنی کمزوریوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہمیں صبر، محنت اور مستقل مزاجی کی قدر آتی ہے۔ جو شخص کبھی ناکام نہ ہو وہ کبھی مضبوط بھی نہیں بن سکتا۔
سونا بھی آگ میں تپ کر ہی کندن بنتا ہے۔
آج کل کے نوجوان چھوٹی سی ناکامی پر ہار مان لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی چمک دمک دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ کامیابی ایک رات میں مل جاتی ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس "ایک رات" کے پیچھے کتنی "سیاہ راتیں" ہیں۔ جے کے رولنگ نے ہیری پوٹر کی کتاب 12 پبلشرز کو بھیجی، سب نے انکار کر دیا۔ اگر وہ 12ویں انکار کے بعد رک جاتیں تو آج دنیا کا سب سے بڑا فکشن نہ ہوتا۔
تو پھر ناکامی کو سیڑھی کیسے بنایا جائے؟
- ناکامی کو ذاتی حملہ نہ سمجھیں۔ یہ آپ کی قابلیت کا فیصلہ نہیں، یہ صرف فیڈبیک ہے۔
- ہر ناکامی کے بعد 3 سوال ضرور کریں۔ کیا غلط ہوا؟ میں نے کیا سیکھا؟ اگلی بار کیا بہتر کروں گا؟
- ہار ماننے سے پہلے کم از کم 3 بار کوشش کریں۔ اکثر لوگ دوسری کوشش کے بعد ہی ہار مان لیتے ہیں جبکہ کامیابی تیسری سیڑھی پر کھڑی ہوتی ہے۔
- اپنے ارد گرد ایسے لوگ رکھیں جو ناکامی پر طعنہ نہ دیں بلکہ حوصلہ دیں۔
یاد رکھیں، دیوار اور سیڑھی میں فرق صرف نظر کا ہے۔ جو شخص دیوار کے سامنے کھڑا ہو کر رونا شروع کر دے اس کے لیے وہ دیوار ہے۔ اور جو اسی دیوار پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھنے لگے اس کے لیے وہی سیڑھی بن جاتی ہے۔
زندگی میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ناکامی کے ڈر سے کوشش ہی نہیں کرتے۔ دوسرے وہ جو کوشش کرتے ہیں، گرتے ہیں، سیکھتے ہیں اور پھر اٹھ کر پہلے سے زیادہ طاقت سے دوڑتے ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
آخر میں بس یہی کہوں گی: "اگر آپ ناکام نہیں ہو رہے تو آپ بڑا رسک نہیں لے رہے۔ اور اگر آپ بڑا رسک نہیں لے رہے تو آپ بڑا خواب بھی نہیں دیکھ رہے۔"
اس لیے ناکامی سے ڈریں نہیں۔ اسے گلے لگائیں۔ اس سے سیکھیں۔ کیونکہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ناکامیوں کی ایک لمبی کہانی چھپی ہوتی ہے۔ ناکامی انجام نہیں، یہ آغاز ہے۔ یہ اختتام نہیں، یہ تیاری ہے۔
"گرنا جرم نہیں، نہ اٹھنا جرم ہے"
تبصرے (0)
Leave a Comment