صحت

مکمل ہونے کا خوف: جب پرفیکشنزم ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے

مکمل ہونے کا خوف: جب پرفیکشنزم ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے

ہماری سوسائٹی میں "پرفیکشنزم" یعنی ہر کام کو مکمل اور بے عیب کرنے کی عادت کو ایک مثبت خوبی سمجھا جاتا ہے۔ اکثر لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ "میں جب تک کام بالکل ٹھیک نہ کر لوں، مجھے سکون نہیں ملتا۔" لیکن اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ہر چیز میں بے عیب پن کی تلاش انسان کو آگے بڑھانے کے بجائے اکثر وہیں روک دیتی ہے۔ پرفیکشنزم دراصل کامیابی کی بے لوث خواہش نہیں، بلکہ ناکامی اور تنقید کا ایک پوشیدہ خوف ہے۔

انسان فطرتی طور پر ادھورا اور خطا کا پتلا ہے۔ 
دنیا کی کوئی بھی عظیم تخلیق، کتاب یا کاروبار پہلے ہی دن مکمل یا بے عیب نہیں تھا۔ تمام بڑے نظریات اور ایجادات غلطیوں، ترمیم اور مسلسل اصلاح کے عمل سے گزر کر سامنے آتی ہیں۔ لیکن ایک پرفیکٹسٹ انسان کے لیے کوئی بھی شروعات اس وقت تک ناممکن ہو جاتی ہے جب تک اسے یہ یقین نہ ہو جائے کہ نتیجہ سو فیصد درست نکلے گا۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کام شروع کرنے سے ڈرتا ہے، جسے نفسیات میں "Procrastination" یعنی کاہلی یا کام کو ٹالنا کہا جاتا ہے۔ درحقیقت، زیادہ تر لوگ سستی کی وجہ سے کام نہیں ٹالتے، بلکہ اس خوف سے ٹالتے ہیں کہ اگر وہ ان کی توقعات کے مطابق نہ ہوا تو کیا ہوگا؟

اسی الجھن کا حل ایک سادہ مگر مؤثر اصول میں چھپا ہے جسے "۸۰ فیصد کا قانون" کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی کام کو اپنے معیار کے مطابق ۸۰ فیصد تک بہتر بنا کر پیش کر دینا، اس کام کو ۱۰۰ فیصد پرفیکٹ بنانے کے چکر میں کبھی شروع ہی نہ کرنے سے ہزار درجے بہتر ہے۔

جب آپ ۸۰ فیصد پر کام مکمل کر کے دنیا کے سامنے لاتے ہیں، تو آپ کو بہتری کی گنجائش (Feedback) ملتی ہے۔ 

آپ عمل کے دوران سیکھتے ہیں۔ غلطیاں انسان کی رہنمائی کرتی ہیں اور یہی غلطیاں آئندہ کام کو زیادہ پختہ بناتی ہیں۔ لیکن اگر آپ ۱۰۰ فیصد کی تلاش میں فائل کو ڈیسک ٹاپ کے کسی فولڈر میں بند رکھیں گے، تو وہ خیال یا تحریر کبھی دنیا تک نہیں پہنچ سکے گی۔

پرفیکشنزم کے پیچھے سب سے بڑا محرک یہ سوچ ہوتی ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟" یا "اگر اس میں کوئی خامی نکل آئی تو میری صلاحیت پر سوال اٹھے گا۔" ہم اپنی ذات کی قیمت کو اپنے کام کے نتیجے سے جوڑ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذرا سی خامی بھی ہمیں اندر سے توڑ دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تنقید سے بچنے کی کوشش میں ہم اپنے آپ کو ان امکانات سے محروم کر دیتے ہیں جو صرف عملی اقدام سے پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مصنف، ڈیزائنر یا مفکر پہلی بار میں شاہکار نہیں تخلیق کرتا۔ پہلا مسودہ ہمیشہ خام ہوتا ہے، اور اس خام مال کو تراشنا ہی اصلی تخلیقی عمل ہے۔

جب آپ ہر قدم پر اپنے اندر کے نقاد (Inner Critic) کو سنے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، تو آپ کی تخلیق کاری کی روانگی ختم ہو جاتی ہے۔ پرفیکشنزم انسان کے اندر کا خود اعتمادی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے اور مسلسل ذہنی تناؤ اور بے چینی کو جنم دیتا ہے۔ انسان ہر وقت تھکن اور نامکمل ہونے کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔

اگر آپ کسی کتاب، آرٹیکل، کاروبار یا نئے خیال پر کام کر رہے ہیں، تو بے عیب پن کی زنجیروں کو توڑ دیں۔ اپنے کام کو ناقص ہونے کی اجازت دیں۔ غلطیاں کرنے کا حوصلہ پیدا کریں اور آگے بڑھیں۔ ایک اوسط درجے کا مکمل شدہ کام، اس غیر معمولی اور پرفیکٹ کام سے ہمیشہ بہتر ہوتا ہے جو صرف آپ کے ذہن میں رہ گیا اور کبھی کاغذ پر نہ اتر سکا۔
ترقی کا راز بے عیب ہونے میں نہیں، بلکہ مسلسل حرکت میں رہنے اور ناقص شروعات کو وقت کے ساتھ بہتر بنانے میں ہے۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement