صحت

کام مؤخر کرنے کی نفسیات: دماغ کیوں آج کا کام کل پر چھوڑ دیتا ہے؟

کام مؤخر کرنے کی نفسیات: دماغ کیوں آج کا کام کل پر چھوڑ دیتا ہے؟



ہم سب نے کبھی نہ کبھی خود سے یہ ضرور کہا ہوگا، "بس پانچ منٹ بعد شروع کرتا ہوں۔" لیکن وہ پانچ منٹ اکثر گھنٹوں، دنوں یا ہفتوں میں بدل جاتے ہیں۔ یہی کام مؤخر کرنے کی عادت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف سستی کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے ہمارے دماغ کی ایک پیچیدہ نفسیات کام کرتی ہے۔

انسانی دماغ فوری خوشی کو مستقبل کے فائدے پر ترجیح دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے سامنے امتحان کی تیاری اور موبائل پر ویڈیوز دیکھنے کا انتخاب ہو، تو دماغ عموماً آسان اور خوشگوار کام کی طرف مائل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ضروری کاموں کو بار بار بعد کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

نفسیات کے ماہرین کے مطابق اس عادت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں ناکامی کا خوف، خود پر اعتماد کی کمی، کمال پسندی، ذہنی دباؤ اور کام کا بہت بڑا محسوس ہونا شامل ہیں۔ بعض لوگ اس لیے کام شروع نہیں کرتے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ سب کچھ بالکل بہترین ہو، جبکہ کچھ لوگ یہ سوچ کر گھبرا جاتے ہیں کہ اگر وہ ناکام ہوگئے تو کیا ہوگا۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم کسی کام کو مؤخر کرتے ہیں تو ہمیں چند لمحوں کے لیے سکون محسوس ہوتا ہے، کیونکہ دماغ دباؤ سے عارضی طور پر بچ جاتا ہے۔ لیکن یہی وقتی سکون بعد میں پریشانی، احساسِ جرم اور مزید ذہنی دباؤ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس سے نکلنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ اکثر کام مؤخر کرتے ہیں، وہ لازماً سست نہیں ہوتے۔ بہت سے لوگ ذہین ہوتے ہیں، مگر اپنے جذبات کو سنبھالنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ مسئلہ وقت کی کمی نہیں بلکہ جذبات کے درست انتظام کا ہے۔

خوش قسمتی سے اس عادت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے بڑے کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔ صرف پانچ یا دس منٹ کے لیے کام شروع کرنے کا فیصلہ کریں۔ اکثر آغاز ہی سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، اور ایک بار کام شروع ہو جائے تو اسے جاری رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔

اپنے کاموں کی فہرست بنائیں، غیر ضروری نوٹیفیکیشن بند کریں، اور ہر مکمل ہونے والے مرحلے پر خود کو ایک چھوٹا سا انعام دیں۔ اس سے دماغ مثبت احساسات کو کام مکمل کرنے کے ساتھ جوڑنے لگتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر کام مکمل ہونا ضروری ہے، کامل ہونا نہیں۔ اگر آپ ہمیشہ بہترین لمحے یا بہترین موڈ کا انتظار کرتے رہیں گے تو ممکن ہے وہ لمحہ کبھی نہ آئے۔ کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو نامکمل آغاز کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

 کام مؤخر کرنے کی عادت کوئی شخصیت کی خامی نہیں بلکہ ایک قابلِ فہم نفسیاتی رویہ ہے۔ اسے سمجھ کر، اپنی عادات میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لا کر اور مستقل مزاجی اختیار کر کے ہم اپنے وقت، صلاحیت اور خوابوں کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، مستقبل بدلنے کا بہترین وقت آج ہے۔


تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement