صحت

کبھی کبھی خود کو بھی چھوڑ دینا چاہیے

کبھی کبھی خود کو بھی چھوڑ دینا چاہیے



ہم دوسروں کو چھوڑنے کے بارے میں بہت سنتے ہیں، مگر خود کو چھوڑنے کا خیال عجیب سا لگتا ہے۔ آخر انسان خود کو کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ مگر شاید زندگی کے کچھ موڑ ایسے ہوتے ہیں جہاں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں اپنے ہی کسی پرانے روپ کا ہاتھ چھوڑنا پڑتا ہے۔

ہم اپنے ساتھ بہت کچھ اٹھائے پھرتے ہیں۔

پرانے فیصلے، پرانی غلطیاں، وہ باتیں جو ہمیں آج بھی شرمندہ کرتی ہیں، وہ لوگ جو جا چکے ہیں، وہ خواب جو پورے نہیں ہوئے، اور وہ سوال جن کے جواب کبھی نہیں ملے۔ ہم انہیں اپنی یادوں کی الماری میں رکھ دیتے ہیں، مگر کبھی کبھی وہ الماری اتنی بھر جاتی ہے کہ حال کے لیے جگہ ہی نہیں بچتی۔

ہم اکثر سوچتے ہیں، “کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔”

کاش وہ بات نہ کہی ہوتی۔
کاش اس شخص پر اعتماد نہ کیا ہوتا۔
کاش وہ موقع ضائع نہ کیا ہوتا۔
کاش میں اُس وقت کچھ اور ہوتا۔

مگر زندگی میں “کاش” ایک عجیب لفظ ہے۔ یہ ماضی کا دروازہ کھول دیتا ہے، مگر ہمیں وہاں واپس نہیں لے جا سکتا۔

ہم اپنے ماضی کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش میں کبھی کبھی اپنے حال کے ساتھ ناانصافی کر بیٹھتے ہیں۔

جو شخص آپ پانچ سال پہلے تھے، وہ آج کے آپ جیسا کیسے ہو سکتا تھا؟ اُس کے پاس آج کا تجربہ نہیں تھا، آج کی سمجھ نہیں تھی، آج کی نظر نہیں تھی۔ اس نے جو فیصلے کیے، وہ اُس وقت کی سمجھ کے مطابق کیے۔

شاید اسے معاف کرنا چاہیے۔

صرف دوسروں کو نہیں—خود کو بھی۔

خود کو چھوڑ دینے کا مطلب اپنی یادیں مٹانا نہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ماضی بےمعنی تھا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم اسے اپنی پوری زندگی کا پتہ بنانا چھوڑ دیں۔

کچھ چیزیں ہماری کہانی کا حصہ رہ سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ وہ ہماری شناخت بن جائیں۔

آپ کی ایک غلطی آپ پوری شخصیت نہیں ہیں۔

آپ کا ایک ناکام خواب آپ کی پوری زندگی نہیں۔

کسی کا آپ کو چھوڑ دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ محبت کے قابل نہیں تھے۔

اور آپ کا ماضی، آپ کے مستقبل کی سزا نہیں ہے۔

کبھی کبھی ہمیں اپنے پرانے خوابوں کو بھی رخصت کرنا پڑتا ہے۔ وہ خواب جو کبھی ہماری آنکھوں میں روشنی تھے، شاید آج ہمارے لیے مناسب نہ ہوں۔ اس میں شکست کہاں ہے؟ انسان بدلتا ہے، اور اس کے خواب بھی بدل سکتے ہیں۔

درخت جب خزاں میں اپنے پتے چھوڑتا ہے تو اسے اپنی خوبصورتی ختم ہونے کا خوف نہیں ہوتا۔ شاید اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کو ہمیشہ تھامے رکھنا زندگی نہیں۔

کچھ چیزیں چھوڑنے سے ہی نئی جگہ بنتی ہے۔

شاید ہمیں بھی اپنے اندر تھوڑی سی جگہ خالی کرنی چاہیے—نئے خوابوں کے لیے، نئے لوگوں کے لیے، اور سب سے بڑھ کر اپنے ایک نئے روپ کے لیے۔

ہمیں ہر پرانی یاد کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر چلنے کی ضرورت نہیں۔

کچھ یادیں بس یادیں رہ سکتی ہیں۔

کچھ دروازے بند رہ سکتے ہیں۔

کچھ سوال بےجواب رہ سکتے ہیں۔

اور کچھ پرانے “ہم” خاموشی سے وہیں رہ سکتے ہیں جہاں وقت نے انہیں چھوڑا تھا۔

کیونکہ زندگی شاید یہ نہیں کہ ہم ہمیشہ وہی رہیں جو کبھی تھے۔

زندگی شاید یہ سیکھنے کا نام ہے کہ کب، کیا، اور کس خود کو چھوڑ دینا ہے—تاکہ ہم آخرکار وہ بن سکیں جو بننے کے لیے ابھی باقی ہیں۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement