کہانیاں

ضمیر کی آواز: انسان کو ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز سننی چاہیے

ضمیر کی آواز: انسان کو ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز سننی چاہیے
   تمہید
انسان کی زندگی میں ضمیر کی آواز بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ضمیر انسان کے اندر موجود وہ قوت ہے جو اسے اچھے اور برے میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔ جب انسان کوئی غلط کام کرنے لگتا ہے تو اس کا ضمیر اسے روکتا ہے، جبکہ نیکی کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جو انسان اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے، وہ ہمیشہ سچائی اور ایمانداری کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

 ایک سبق آموز واقعہ

ایک گاؤں میں احمد نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ بہت محنتی تھا، لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے اکثر پریشان رہتا تھا۔ ایک دن اسے بازار میں ایک بٹوا ملا جس میں کافی رقم اور ایک شناختی کارڈ موجود تھا۔ احمد کو پیسوں کی سخت ضرورت تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ یہ رقم رکھ لے تو اس کے کئی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
urdu-post
لیکن اسی وقت اس کے ضمیر نے اسے جھنجھوڑا۔ اس نے سوچا کہ جس شخص کی یہ رقم گم ہوئی ہے، وہ بھی یقیناً پریشان ہوگا۔ کیا کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا درست ہے؟ یہ خیال آتے ہی احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ بٹوے کے مالک کو تلاش کرے گا۔

شناختی کارڈ کی مدد سے وہ مالک کے گھر پہنچا اور بٹوا اس کے حوالے کر دیا۔ بٹوے کا مالک ایک بوڑھا شخص تھا۔ وہ اپنی رقم واپس ملنے پر بہت خوش ہوا اور احمد کو انعام دینا چاہا، مگر احمد نے انکار کر دیا۔ اس نے کہا، ’’مجھے انعام نہیں چاہیے، میرے لیے میرا ضمیر مطمئن ہونا ہی سب سے بڑا انعام ہے۔‘‘

 ضمیر کی آواز کا صلہ

urdu-post
بوڑھے شخص نے احمد کی ایمانداری سے متاثر ہو کر اسے دعائیں دیں۔ یہ واقعہ گاؤں میں مشہور ہو گیا اور لوگ احمد کی عزت کرنے لگے۔ احمد نے ثابت کر دیا کہ اصل دولت پیسہ نہیں بلکہ اچھا کردار ہے۔

اخلاقی سبق

ہمیں ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز سننی چاہیے، کیونکہ وقتی فائدے کے لیے غلط راستہ اختیار کرنا انسان کو اندر سے بے سکون کر دیتا ہے۔ سچائی، دیانت داری اور نیکی ہی انسان کو حقیقی عزت اور سکون عطا کرتی ہیں۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement