ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک عجیب و غریب اسکول تھا، جہاں بچے پڑھائی سے زیادہ شرارتوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب روزانہ بچوں کی شکایتوں سے تنگ آ چکے تھے۔ ایک دن انہوں نے غصے میں آ کر نوکری چھوڑ دی۔ اب سوال یہ تھا کہ نیا ہیڈ ماسٹر کون بنے گا؟
گاؤں کے چوہدری نے اعلان کیا، ’’ہم ایسا ہیڈ ماسٹر لائیں گے جو کسی سے نہ ڈرے!‘‘ اتفاق سے وہاں ایک گدھا موجود تھا جو زور زور سے ڈھینچوں ڈھینچوں کر رہا تھا۔ چوہدری نے مذاق میں کہا، ’’بس! یہی ہمارا نیا ہیڈ ماسٹر ہوگا!‘‘
گدھے کی پہلی اسمبلی 🫏

اگلی صبح گدھے کو صاف ستھرے کپڑے پہنا کر ہیڈ ماسٹر کی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ اسمبلی شروع ہوئی تو ایک بچے نے قومی ترانہ گانے کے بجائے فلمی گانا شروع کر دیا۔ گدھے نے فوراً زور سے آواز نکالی، ’’ڈھینچوںوو!‘‘
بچے سمجھے کہ ہیڈ ماسٹر صاحب تقریر کر رہے ہیں۔ سب نے تالیاں بجا دیں۔ گدھا خوش ہو کر دوبارہ چلانے لگا، اور پورا اسکول قہقہوں سے گونج اٹھا۔
کلاس روم میں نیا قانون 😂

گدھے نے اپنی مرضی سے نئے قوانین نافذ کر دیے۔ جو بچہ ہوم ورک نہ کرتا، اسے گاجر کھلانے کی سزا ملتی۔ جو بچہ زیادہ بولتا، اسے گدھے کے ساتھ میدان کے دس چکر لگانے پڑتے۔
ایک دن ریاضی کے استاد نے پوچھا، ’’سر! دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟‘‘ گدھے نے جواب میں ایسی آواز نکالی کہ استاد صاحب بھی ہنس ہنس کر کرسی سے گر پڑے۔
انجام اور سبق 🎓
چند دن بعد گاؤں کے لوگ اسکول دیکھنے آئے۔ بچوں کی حاضری بڑھ چکی تھی، کیونکہ سب گدھے ہیڈ ماسٹر کے کارنامے دیکھنا چاہتے تھے۔ آخرکار چوہدری نے گدھے کو عہدے سے ہٹا دیا، لیکن بچوں نے احتجاج شروع کر دیا۔
سبق: کبھی کبھی ہنسی مذاق بھی لوگوں کو قریب لے آتا ہے، مگر اسکول چلانے کے لیے عقل، علم اور ذمہ داری ضروری ہیں!
تبصرے (0)
Leave a Comment