کہانی کا آغاز
ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جو بہت امیر تھا، لیکن اس کے سر پر ایک بھی بال نہیں تھا۔ وہ اپنی گنج پن سے بہت پریشان رہتا تھا۔ اس نے اعلان کیا کہ جو شخص اس کے سر پر دوبارہ بال اگا دے گا، اسے سونے کے سکوں سے مالا مال کر دیا جائے گا۔
یہ اعلان سنتے ہی شہر کا ایک لالچی حجام محل پہنچ گیا۔ اس کا نام بشیر تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اگر بادشاہ کے سر پر بال نہ بھی اگے تو کیا ہوا، انعام تو مل ہی جائے گا!
حجام کی عجیب ترکیب
بشیر نے بادشاہ کے سر کو غور سے دیکھا اور بڑے اعتماد سے بولا، ’’حضور! میرے پاس ایک ایسا تیل ہے جو مردہ بالوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے!‘‘

بادشاہ خوش ہو گیا اور فوراً تیل لگانے کا حکم دیا۔ حجام نے سر پر تیل ملتے ہوئے آنکھیں بند کر کے عجیب و غریب دعائیں پڑھنا شروع کر دیں۔
چند دن گزر گئے، مگر بادشاہ کے سر پر ایک بال بھی نہ اگا۔ بادشاہ نے غصے سے پوچھا، ’’بشیر! تمہارا تیل کہاں گیا؟‘‘
حجام فوراً بولا، ’’حضور! تیل تو اپنا کام کر رہا ہے، لیکن آپ کے بال شاید محل سے چھٹی پر گئے ہوئے ہیں!‘‘
لالچ کا مزاحیہ انجام
بادشاہ یہ سن کر غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ اس نے حجام کو سزا دینے کا حکم دیا۔ بشیر فوراً گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور بولا، ’’حضور! قصور میرا نہیں، آپ کے سر کی زمین ہی بانجھ ہے!‘‘

یہ سن کر درباری اپنی ہنسی نہ روک سکے۔ بادشاہ بھی ہنس پڑا، لیکن اس نے حجام کو انعام دینے کے بجائے اس سے تیل کے تمام پیسے واپس لے لیے۔
بشیر خالی ہاتھ گھر لوٹا اور اس دن کے بعد اس نے کبھی کسی کو بال اگانے کا وعدہ نہ کیا۔
کہانی سے سبق
لالچ بری بلا ہے۔ جھوٹے وعدے اور دھوکا وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر آخرکار انسان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment