خوشیوں بھرا بچپن
ایک چھوٹے سے گاؤں میں علی نام کا ایک بچہ رہتا تھا۔ وہ بہت شوخ اور شرارتی تھا۔ اسے دوسروں کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا، مگر وہ اکثر دوسروں کے جذبات کو نظر انداز کر دیتا تھا۔ اس کی جماعت میں حارث نام کا ایک خاموش لڑکا بھی پڑھتا تھا، جس کے پاس ایک خوب صورت لکڑی کی گاڑی تھی۔ یہ گاڑی اسے اس کے مرحوم دادا نے آخری سالگرہ پر تحفے میں دی تھی۔ حارث اس کھلونے کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا۔
ایک لمحے کی شرارت
ایک دن اسکول کی چھٹی کے بعد بچے میدان میں کھیل رہے تھے۔ حارث اپنی گاڑی کو بڑے پیار سے چلا رہا تھا۔ علی نے گاڑی دیکھی تو اس کے دل میں اسے چھین کر کھیلنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اس نے حارث سے اجازت مانگے بغیر گاڑی اٹھائی اور تیزی سے بھاگنے لگا۔ اچانک گاڑی اس کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر گری اور دو ٹکڑوں میں ٹوٹ گئی۔

حارث کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے ٹوٹے ہوئے کھلونے کو سینے سے لگایا اور روتے ہوئے کہا، ’’یہ میرے دادا کی آخری نشانی تھی!‘‘
علی کی ہنسی فوراً غائب ہوگئی۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ جس چیز کو وہ محض کھلونا سمجھ رہا تھا، وہ کسی کے لیے محبت بھری یادوں کا خزانہ تھی۔
احساس اور معافی

علی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ اس نے حارث سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کسی کی چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے اجازت لے گا۔ اگلے دن وہ اپنے والد کے ساتھ بڑھئی کے پاس گیا اور گاڑی کی مرمت کروائی۔ جب اس نے گاڑی حارث کو واپس دی تو حارث کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔
کہانی کا سبق
اس دن علی نے سیکھا کہ دوسروں کے جذبات کی قدر کرنا بہت ضروری ہے۔ ہر انسان کے لیے بعض چیزیں انمول ہوتی ہیں، چاہے وہ ہمیں معمولی ہی کیوں نہ لگیں۔ الفاظ اور اعمال دل توڑ بھی سکتے ہیں اور جوڑ بھی سکتے ہیں، اس لیے ہمیشہ دوسروں کے احساسات کا احترام کرنا چاہیے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment