شوبز

آخری روٹی: ایک بھوکے بچے کی خاموش قربانی اور انسانیت کو جگا دینے والا سبق

آخری روٹی: ایک بھوکے بچے کی خاموش قربانی اور انسانیت کو جگا دینے والا سبق

ایک غریب گھرانے کی کہانی

سردیوں کی ایک رات تھی۔ شہر کے ایک چھوٹے سے کچے مکان میں بیوہ زینب اپنے دس سالہ بیٹے احمد کے ساتھ رہتی تھی۔ غربت نے ان کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ اس رات گھر میں کھانے کے لیے صرف ایک روٹی بچی تھی۔ زینب سارا دن مزدوری کرکے تھکی ہوئی تھی، جبکہ احمد بھی بھوک سے نڈھال تھا۔
زینب نے روٹی احمد کے سامنے رکھتے ہوئے کہا، ’’بیٹا! تم کھا لو، میں نے پڑوس میں کھانا کھا لیا تھا۔‘‘
احمد جانتا تھا کہ اس کی ماں جھوٹ بول رہی ہے۔ اس نے دیکھا تھا کہ ماں صبح سے بھوکی تھی اور اس کے حصے میں صرف پانی آیا تھا۔

قربانی کا انوکھا لمحہ

urdu-post
احمد نے روٹی اٹھائی، اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصہ ماں کی طرف بڑھا دیا۔
’’امی! مجھے معلوم ہے کہ آپ نے کچھ نہیں کھایا۔ اگر آپ بھوکی رہیں گی تو میرا پیٹ بھرنے سے کیا فائدہ؟‘‘
زینب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ دونوں نے آدھی آدھی روٹی کھائی، مگر ان کے دل محبت اور سکون سے بھر گئے۔
اگلی صبح احمد اسکول جاتے ہوئے راستے میں ایک بوڑھے شخص سے ملا، جو بھوک کے باعث ایک دکان کے باہر بیٹھا تھا۔ احمد کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، لیکن اس نے بوڑھے کو اپنے بستے میں رکھا ہوا آدھا سیب دے دیا۔

نیکی کا خوبصورت صلہ

urdu-post
یہ منظر قریب کھڑے ایک دکاندار نے دیکھا۔ وہ احمد کی سادگی اور ہمدردی سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے احمد کو بلایا، کھانا دیا اور اس کی تعلیم میں مدد کرنے کا وعدہ کیا۔
احمد نے گھر آکر سارا واقعہ ماں کو سنایا تو زینب نے مسکرا کر کہا، ’’بیٹا! نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔‘‘
اس دن احمد نے جان لیا کہ انسان کی اصل دولت اس کے پاس موجود چیزیں نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے اس کے دل میں موجود محبت ہے۔

اخلاقی سبق

دوسروں کی بھوک اور تکلیف کو محسوس کرنا ہی حقیقی انسانیت ہے۔ نیکی کرنے کے لیے امیر ہونا ضروری نہیں، بلکہ ایک نرم دل ہونا کافی ہے۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement