بچپن سے لے کر آج تک ہم ایک ہی محاورہ سنتے آئے ہیں: "صبح جلدی اٹھنا صحت، دولت اور دانشمندی کی چابی ہے!" یہ جملہ سننے میں جتنا خوبصورت اور اثر انگیز لگتا ہے، عملی طور پر رات کے دیر سے سوئے ہوئے انسان کے لیے اتنا ہی دردناک ہوتا ہے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو صبح 5 بجے اٹھ کر جاگنگ پر نکل جاتے ہیں، اور دوسرے ہم جیسے، جو صبح 5 بجے یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ "بس اب تو صبح ہو ہی گئی ہے!"
الارم کے ساتھ سنسنی خیز جنگ
صبح جلدی اٹھنے کی سب سے بڑی اور خونخوار جنگ الارم کلاک کے ساتھ ہوتی ہے۔ رات کو سوتے وقت انسان کے اندر کا ڈسپلن اور جذبہ عروج پر ہوتا ہے۔ انسان موبائل میں صبح 6:00، 6:05، 6:10 اور 6:15 بجے کے مسلسل چار الارم لگا کر سوتا ہے، جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کرنے جا رہا ہو۔
لیکن صبح 6 بجے جب الارم اپنی پوری طاقت کے ساتھ بجتا ہے، تو انسان کا دماغ جاگنے کے بجائے ایک عجیب و غریب ریاضی (Maths) کی کیلکولیشن شروع کر دیتا ہے: "اگر میں ابھی پانچ منٹ اور سو جاؤں، تو 6:05 ہوں گے۔ پھر چائے چھوڑ کر صرف منہ دھو لوں گا، تو 10 منٹ بچ جائیں گے!" اس فلسفے کے تحت "سنوز" (Snooze) کا بٹن دبایا جاتا ہے اور وہ 5 منٹ کب 2 گھنٹوں میں بدل جاتے ہیں، پتہ ہی نہیں چلتا۔
صبح کے "خیالی" فوائد
ہمیں ہمیشہ بتایا جاتا ہے کہ صبح جلدی اٹھنے کے بے شمار فوائد ہیں:
- تازہ ہوا: لوگ کہتے ہیں کہ صبح کی تازہ ہوا میں سانس لینے سے پھیپھڑے خوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب ہم اٹھتے ہیں تو صبح کی وہ 'تازہ ہوا' دوپہر کی شدید گرمی اور دھوپ میں بدل چکی ہوتی ہے۔
- دن کا بڑا ہونا: کہا جاتا ہے کہ جلدی اٹھنے سے دن بڑا لگتا ہے اور سارے کام وقت پر ہو جاتے ہیں۔ ہمارا تجربہ یہ ہے کہ جب بھی غلطی سے صبح جلدی اٹھ جائیں، تو پورا دن اتنی سستی اور غنودگی میں گزرتا ہے کہ بندہ صرف یہ سوچتا رہتا ہے کہ "اگلی رات کب ہوگی؟"
- کامیابی کا راز: ہر کامیاب انسان کا انٹرویو دیکھ لیں، وہ یہی کہے گا کہ "میں صبح 4 بجے اٹھتا ہوں!" یہ سن کر ہم بھی ایک دن کے لیے صبح 4 بجے اٹھے، لیکن کامیابی تو دور کی بات، پورا دن گھر والوں کے طعنے ہی ملتے رہے کہ "آج سورج کہاں سے نکلا ہے؟"
نیند کی حالت میں تیاری اور جلدی
جب آنکھ اچانک کھلے اور پتہ چلے کہ دفتر یا سکول کا وقت نکل چکا ہے، تو جو ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک ہاتھ سے جرابیں ڈھونڈی جا رہی ہوتی ہیں اور دوسرے ہاتھ سے بٹن بند ہو رہے ہوتے ہیں۔ نیند اتنی شدید ہوتی ہے کہ انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے چہرے پر صابن لگایا تھا یا نہیں! اس حالت میں تیار ہو کر جب انسان باہر نکلتا ہے تو اسے واقعی لگتا ہے کہ سوویرے اٹھنے کے فائدے جن کو ملتے ہیں، مبارک ہوں، ہم تو اپنی نیند کے ساتھ ہی خوش ہیں!
خلاصہ
نتیجہ یہ ہے کہ صبح جلدی اٹھنا یقیناً ایک بہترین اور صحت مند عادت ہے، لیکن ہم جیسے "رات کے شاہینوں" کے لیے یہ ایک ایسا خواب ہے جو صرف خوابوں میں ہی پورا ہو سکتا ہے۔ جب تک دنیا میں الارم اور سنوز کا بٹن موجود ہے، ہم سوویرے اٹھنے کے ان تمام فوائد کو دور ہی سے سلام پیش کرتے رہیں گے!
تبصرے (0)
Leave a Comment