شوبز

امتحان کا ہال اور غائب ہوتا ہوا دماغ

امتحان کا ہال اور غائب ہوتا ہوا دماغ


امتحان کا نام سنتے ہی اچھے اچھے بچوں کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگتے ہیں اور دل کی دھڑکن یوں تیز ہو جاتی ہے جیسے کسی نے پیچھے کتا لگا دیا ہو! پورا سال بچے مزے سے گزارتے ہیں، لیکن جیسے ہی امتحان کی تاریخ قریب آتی ہے، لگتا ہے جیسے دنیا کا سب سے بڑا طوفان آنے والا ہے۔

امتحان سے ایک رات پہلے: "آج تو بس ٹاپ کرنا ہے!"

امتحان سے پہلی رات ہر بچے کے اندر کا پڑھاکو جادوگر جاگ جاتا ہے۔ بچہ کتابیں کھول کر بیٹھتا ہے اور دل میں عہد کرتا ہے کہ "آج رات سوئے بغیر پوری کتاب ختم کر دوں گا!" لیکن جیسے ہی کتاب کا پہلا صفحہ کھلتا ہے، اچانک شدید نیند، بھوک، پیاس اور دنیا بھر کے ضروری کام یاد آنے لگتے ہیں۔ کتاب کی لکھی ہوئی لائنیں یوں نظر آتی ہیں جیسے کوئی چیونٹیاں پریڈ کر رہی ہوں۔ آخر کار بچہ یہ سوچ کر سو جاتا ہے کہ "صبح جلدی اٹھ کر پڑھ لوں گا"، اور وہ صبح کبھی نہیں آتی!

امتحان کا ہال: جادوئی ماحول

صبح جب بچے امتحان کے ہال میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں کا ماحول بالکل بدل چکا ہوتا ہے۔ کچھ بچے آخری سیکنڈ تک کتابیں آنکھوں کے بالکل سامنے رکھ کر رٹا لگا رہے ہوتے ہیں، جیسے کوئی جادو کا منتر یاد کر رہے ہوں۔ ہال میں داخل ہوتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے ہم کسی خوفناک قلعے میں آ گئے ہیں، جہاں نگران (Invigilators) عقاب کی طرح جلاّد بنی نظروں سے سب کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

سوالنامہ اور دماغ کی "چھٹی"

جیسے ہی نگران بچوں کو پرچہ (Question Paper) تھماتا ہے، اصلی ڈرامہ شروع ہوتا ہے۔ بچہ بسم اللہ پڑھ کر جیسے ہی پہلا سوال دیکھتا ہے، اس کا دماغ فوراً کہتا ہے: "میں تو چلا اپنے گھر، تم اپنا دیکھو!"

پورا سال جو باتیں یاد کی تھیں، وہ اچانک یوں غائب ہو جاتی ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ! سوال نمبر ایک دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ تو ہم نے کبھی پڑھا ہی نہیں تھا اور شاید یہ پرچہ کسی دوسرے سیارے سے چھپ کر آیا ہے۔

اشاروں کی زبان اور پنسل کا بہانہ

جب دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے تو بچوں کی تمام تر امیدیں اپنے دوستوں سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ ہال میں ایک الگ ہی اشاروں کی زبان (Sign Language) شروع ہو جاتی ہے۔

  • گردن کو تھوڑا سا موڑ کر دوست کو دیکھنا۔

  • پنسل یا ربڑ گرانے کا بہانہ بنا کر نیچے جھکنا اور پوچھنا: "چھوٹے! تیسرے کا جواب کیا ہے؟"

  • اور اگر کوئی نگران دیکھ لے، تو فوراً چہرے پر ایسی معصومیت لانا جیسے دنیا میں اس سے شریف بچہ کوئی اور ہے ہی نہیں!

سپلیمنٹری شیٹ کا خوف

امتحان کے ہال میں سب سے بڑا سسپنس وہ بچہ پیدا کرتا ہے جو پرچہ ملتے ہی 15 منٹ کے اندر کھڑا ہو کر چلاتا ہے: "سر! اضافی شیٹ (Supplementary Sheet) دیں!"
اس وقت باقی بچوں کا دل بیٹھ جاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں: "یہ بچہ آخر کیا لکھ رہا ہے؟ میں نے تو ابھی پہلا سوال بھی پورا نہیں لکھا!" انسان کو اپنی کم علمی کا احساس اسی وقت سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

نتیجہ: سب ٹھیک ہو جائے گا!

پرچہ ختم ہونے کی گھنٹی بجتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے قید سے رہائی مل گئی ہو۔ بچوں کا دماغ جو ہال میں بالکل غائب تھا، باہر نکلتے ہی اچانک کام کرنے لگتا ہے اور تمام سوالوں کے جواب یاد آنے لگتے ہیں!

سچ تو یہ ہے کہ امتحان ایک مزے دار تجربہ ہوتا ہے، بشرطیکہ آپ نے تھوڑی بہت تیاری کر رکھی ہو۔ اس لیے امتحان سے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں، بس تھوڑی محنت کریں اور مسکراتے ہوئے پرچہ دیں!

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement