فزکس اور سائنس کی دنیا حیرت انگیز اور ناممکن نظر آنے والی حقیقتوں سے بھری پڑی ہے۔ جب ہم روزمرہ زندگی کے اصولوں پر غور کرتے ہیں، تو کچھ چیزیں بالکل واضح معلوم ہوتی ہیں؛ مثال کے طور پر، اگر آپ کے پاس ایک جتنا گرم اور ٹھنڈا پانی ہو، تو عقل یہی کہتی ہے کہ ٹھنڈا پانی جلدی برف بنے گا کیونکہ اسے جمنے کے لیے کم درجہ حرارت کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ لیکن فطرت ہمیشہ اتنی سیدھی سادی نہیں ہوتی۔ سائنس میں ایک ایسا حیرت انگیز مظہر موجود ہے جو اس روایتی سوچ کو بالکل غلط ثابت کر دیتا ہے — اسے "ایمپیمبا ایفیکٹ" (Mpemba Effect) کہا جاتا ہے۔
ایمپیمبا ایفیکٹ کیا ہے؟
آسان الفاظ میں، ایمپیمبا ایفیکٹ وہ طبعی حقیقت ہے جس کے تحت بعض مخصوص حالات میں گرم پانی، ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جم کر برف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سننے میں یہ فزکس کے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی لگتا ہے، لیکن یہ ایک سو فیصد سائنسی حقیقت ہے جسے تجربات کے ذریعے بارہا درست ثابت کیا جا चुका ہے۔
یہ انوکھا نام کیسے پڑا؟
اس انوکھے اثر کا نام ایک عام اسکول کے طالبعلم ایراسٹو ایمپیمبا (Erasto Mpemba) کے نام پر رکھا گیا۔ 1963ء میں تنزانیہ کے اس طالب علم نے کھانا پکانے کی کلاس کے دوران آئس کریم کا آمیزہ بناتے ہوئے ایک عجیب بات نوٹ کی۔ اس نے دیکھا کہ جو آمیزہ پہلے سے گرم تھا، اس نے فریج میں رکھے گئے اس آمیزے سے پہلے برف کی شکل اختیار کر لی جو نسبتاً ٹھنڈا تھا۔ جب اس نے اپنے اسکول کے اساتذہ سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ لیکن جب ایمپیمبا نے ایک فزکس کے پروفیسر کے ساتھ مل کر اس پر باقاعدہ تجربات کیے، تو دنیا دنگ رہ گئی کہ طالبعلم کا مشاہدہ بالکل درست تھا۔
اس کے پیچھے سائنس کیا ہے؟
اگرچہ یہ مظہر صدیوں پہلے ارسطو اور رینے ديكارت جیسے عظیم سائنسدانوں کی نظروں سے بھی گزرا تھا، لیکن اس کی اصل وجوہات کو سمجھنے میں سائنسدانوں کو طویل عرصہ لگا۔ آج سائنسدان اس کے پਿੱچھمی کئی اہم توجیهات پیش کرتے ہیں:
- بھاپ بن کر اڑنا (Evaporation): گرم پانی جب فریزر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کا کچھ حصہ تیزی سے بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ پانی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ پانی کو جمنے کے لیے کم وقت اور محنت درکار ہوتی ہے۔
- حرارتی رو (Convection Currents): گرم پانی میں مائیکرو مالیکیولز کی حرکت بہت تیز ہوتی ہے۔ اس تیز حرکت کی وجہ سے پانی کے اندر قدرتی طور پر ایسے دائرے بنتے ہیں جو حرارت کو باہر نکالنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے پانی کا اوپری حصہ تیزی سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔
- گیسوں کا اخراج: گرم پانی میں تحلیل شدہ گیسیں (Dissolved Gases) کم ہوتی ہیں، جو پانی کی حرارت کو جذب کرنے اور جمنے کے عمل کو آسان بناتی ہیں۔
نتیجہ
ایمپیمبا ایفیکٹ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی ایسی پیچیدگیاں اور پوشیدہ حقائق موجود ہیں جنہیں ہم پہلی نظر میں ناممکن سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سائنس کوئی بند کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ مسلسل سیکھنے، سوال اٹھانے اور نئی حقیقتوں کو دریافت کرنے کا ایک لامتناهی سفر ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment