رات کو نیند نہیں آتی؟ یہ اینزائٹی نہیں، موبائل اور سوچوں کا قصور ہے.
آغازِ گفتگو:
آج ہر دوسرا شخص کہتا ہے کہ مجھے اینزائٹی ہے، مجھے ڈپریشن ہے۔ رات کو نیند نہیں آتی، دل گھبراتا ہے، دماغ تھکتا نہیں۔ ہم فوراً اسے بیماری کا نام دے دیتے ہیں۔
لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ 70 فیصد کیسز میں یہ بیماری نہیں بلکہ ہماری اپنی بنائی ہوئی عادتیں ہیں۔ خاص طور پر رات کے وقت موبائل کا استعمال اور دن بھر کی منفی سوچیں۔
1۔ رات کے 2 بجے تک جاگنے کی اصل وجہ:
ہمارا دماغ سورج کے ساتھ چلتا ہے۔ جب رات ہوتی ہے تو دماغ میلاٹونن نامی ہارمون بناتا ہے جو ہمیں سلاتا ہے۔ لیکن جب ہم اندھیرے میں موبائل کی تیز روشنی آنکھوں پر ڈالتے ہیں تو دماغ سمجھتا ہے کہ ابھی دن ہے۔ نتیجہ؟ آپ بستر پر لیٹے ہیں، آنکھیں تھکی ہوئی ہیں لیکن نیند نہیں آ رہی۔
2۔ سوچوں کا طوفان کیسے بنتا ہے:
دن بھر ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو جمع کرتے رہتے ہیں۔ دن میں کام کی مصروفیت سے یہ سوچیں دب جاتی ہیں۔ لیکن رات کو خاموشی میں یہی سوچیں طوفان بن کر واپس آتی ہیں۔ دماغ ایک ہی بات کو بار بار دہراتا ہے۔ اسے Overthinking کہتے ہیں۔ اور یہی گھبراہٹ پیدا کرتی ہے۔
3۔ اس سے نکلنے کا آسان حل:
اس کا علاج دوا نہیں، دو عادتیں ہیں۔ پہلی: سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل دوسرے کمرے میں رکھ دیں۔ اس کی جگہ کتاب پڑھیں یا وضو کر کے ذکر کریں۔ دوسری: دن میں 10 منٹ اپنی سوچوں کو لکھ لیں۔ جس چیز کو آپ لکھ دیتے ہیں، دماغ اسے رات کو دہرانا بند کر دیتا ہے۔
آخری پیغام:
یاد رکھیں، ہر بے چینی ڈپریشن نہیں ہوتی۔ اکثر یہ ہمارے جسم کا اشارہ ہوتا ہے کہ اپنی روٹین ٹھیک کرو۔ موبائل کم کرو، چلنا زیادہ کرو، اور سونے سے پہلے اللہ کو یاد کرو۔ جب دماغ پرسکون ہوگا تو نیند خود بخود آپ کے پاس چلی آئے گی۔
تبصرے (0)
Leave a Comment