ایک گاؤں میں احمد نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ بہت محنتی تھا مگر اس کی زندگی میں مشکلات ہی مشکلات تھیں۔ اس کی چھوٹی سی دکان تھی جو بمشکل چلتی تھی۔ قرض بڑھتا جا رہا تھا اور گھر کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے تھے۔

احمد کے دوست اکثر اسے کہتے کہ تم شہر جا کر کوئی بڑا کام کرو، یا جلدی امیر ہونے کا کوئی طریقہ ڈھونڈو۔ مگر احمد کو اپنے والد کی ایک بات ہمیشہ یاد رہتی تھی کہ بیٹا، صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔ جو شخص مشکل وقت میں صبر کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانی کے دروازے کھول دیتا ہے۔
ایک سال خشک سالی آئی۔ پورے گاؤں میں فصلیں تباہ ہو گئیں۔ لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔ احمد کی دکان بھی تقریباً بند ہونے کے قریب تھی۔ اس کے پاس کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں بچا تھا۔ ایک رات وہ بہت مایوس ہو کر بیٹھا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جائے۔
لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے صبر کیا، دعا کی اور چھوٹے چھوٹے کام جاری رکھے۔ اس نے گاؤں کے لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔ جو تھوڑا بہت کماتا، اسی پر گزارا کرتا۔
کچھ مہینوں بعد گاؤں میں ایک نئی سڑک بننے کا کام شروع ہوا۔ وہاں مزدوروں کو کھانے اور سامان کی ضرورت پڑی۔ احمد کی دکان وہاں سب سے قریب تھی۔ آہستہ آہستہ اس کا کاروبار چلنے لگا۔ لوگ اس کی ایمانداری اور صبر سے بہت متاثر ہوئے۔

آج احمد گاؤں کا سب سے کامیاب دکاندار ہے۔ وہ اکثر کہتا ہے کہ اگر میں اس مشکل وقت میں صبر نہ کرتا تو آج یہاں نہ ہوتا۔ صبر نے مجھے ٹوٹنے سے بچایا۔
---
اخلاقی سبق:
مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا، مگر صبر کرنے والا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ صبر ہی اصل طاقت ہے جو انسان کو ٹوٹنے سے بچا کر منزل تک پہنچاتی ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment