آج کا دور ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل آلات کا دور ہے۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، اور سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں میں گہرا اثر ڈالا ہے۔ ہر قسم کی معلومات اب ایک کلک کی دوری پر دستیاب ہیں۔ اس ڈیجیٹل انقلاب کے جہاں بہت سے مثبت اثرات ہیں، وہیں اس کا ایک بڑا منفی پہلو کتاب پڑھنے کی عادت (کتاب بینی) میں تیزی سے آنے والا زوال ہے۔ لوگ اب طویل مضامین یا کتابیں پڑھنے کے بجائے مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا فیڈز پر وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
کتابوں سے دوری کی ایک بڑی وجہ اسمارٹ فونز کا بے دریغ استعمال ہے۔ سکرین ٹائم بڑھنے کی وجہ سے انسان کی توجہ کا دورانیہ (Attention Span) کم ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل جو کہ مستقبل کا معمار ہے، اب کتب خانے جانے یا مطالعہ کرنے کے بجائے اپنا بیشتر وقت آن لائن گیمز اور چیٹنگ میں صرف کرتی ہے۔ اس رجحان سے نہ صرف زبان پر گرفت کمزور ہو رہی ہے بلکہ گہرا اور تنقیدی مطالعہ کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اس کے باوجود، کتاب پڑھنے کی اہمیت اور افادیت کسی بھی دور میں کم نہیں ہو سکتی۔ کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ مطالعہ کرنے سے انسان کی فکری صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں، تخیل کو وسعت ملتی ہے اور الفاظ کا ذخیرہ (Vocabulary) وسیع ہوتا ہے۔ جب کوئی قاری کسی کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ لکھاری کے تجربات اور خیالات کی دنیا میں سفر کرتا ہے، جس سے اس کی ذہنی پختگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل سکرین کے مقابلے میں کاغذی کتاب پڑھنا آنکھوں کے لیے بھی زیادہ مفید ہے اور اس سے ذہنی سکون ملتا ہے۔
کتاب بینی انسان کو ایک اچھا اور حساس انسان بناتی ہے۔ یہ ہمیں تاریخ، فلسفہ، سائنس اور دنیا بھر کی ثقافتوں سے روشناس کراتی ہے۔ تنہائی میں کتاب کا ساتھ انسان کو بوریت سے بچاتا ہے اور تخلیقی سوچ کو جلا بخشتا ہے۔ ڈیجیٹل مواد اکثر سطحی اور وقتی ہوتا ہے جبکہ کتابیں پائیدار اور گہرا علم فراہم کرتی ہیں۔
اس زوال کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک بار پھر کتابوں سے اپنا رشتہ جوڑیں۔ والدین اور اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ بچوں میں بچپن ہی سے کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کریں۔ سکولوں اور کالجوں میں کتب بینی کے مقابلے کروائے جائیں اور گھروں میں بھی مطالعہ کا ماحول بنایا جائے۔ اگر ہم نے ڈیجیٹل سکرین کی چکاچوند میں کتابوں کو یکسر بھلا دیا، تو ہماری آنے والی نسلیں فکری اور اخلاقی طور پر کھوکھلی ہو جائیں گی۔ لہٰذا، اسکرین کے بے جا استعمال کو کم کریں اور روزانہ کم از کم چند صفحات کتاب پڑھنے کے لیے ضرور نکالیں، کیونکہ کتابوں کی دوستی ہی حقیقی کامیابی کی ضامن ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment