خبریں

نالج بمقابلہ ہنر: کیا یونیورسٹی کی ڈگری اب محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے؟

نالج بمقابلہ ہنر: کیا یونیورسٹی کی ڈگری اب محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے؟
عنوان: نالج بمقابلہ ہنر: کیا یونیورسٹی کی ڈگری اب محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے؟

ایک دور تھا جب یونیورسٹی کی ڈگری اعلیٰ مستقبل، شاندار روزگار اور معاشرتی عزت کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر یا پروفیسر بنانے کا خواب دیکھتے تھے اور اس مقصد کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا دیتے تھے۔ لیکن آج 21ویں صدی کے ڈیجیٹل اور تیز رفتار دور میں یہ تصویر تیزی سے بدل رہی ہے۔ بازارِ حصص سے لے کر روزگار کی مارکیٹ تک، ایک نیا سوال شدت سے ابھر رہا ہے: کیا ڈگری کی قیمت گر چکی ہے اور اصل طاقت اب ہنر (Skills) کے پاس ہے؟

اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ تعلیمی اداروں اور عملی دنیا کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ روایتی تعلیمی نظام میں آج بھی طالب علموں کو دہائیوں پرانی نصابی کتابیں حفظ کروائی جاتی ہیں، جبکہ عملی مارکیٹ کو ہر روز نئی تکنیکوں، جدید سافٹ ویئرز اور مسئلے حل کرنے کی عملی صلاحیت (Problem-Solving Skills) کی ضرورت ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چار سال یونیورسٹی میں گزارنے اور لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی ڈگری ہولڈر نوجوان کو نوکری کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے، کیونکہ اس کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے لیکن وہ ہنر نہیں ہوتا جس کی مارکیٹ کو تلاش ہے۔

دوسری طرف، گلوبلائزیشن اور انٹرنیٹ نے ہنر کی اہمیت کو بے پناہ بڑھا دیا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی تکنیکی کمپنیوں جیسے گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ نے اب کئی ملازمتوں کے لیے ڈگری کی شرط ختم کر دی ہے۔ آج ایک ایسا نوجوان جس نے انٹرنیٹ سے خود تدریسی (Self-learning) کے ذریعے کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ یا ڈیٹا اینالیٹکس سیکھا ہے، وہ کسی عام ڈگری ہولڈر سے کہیں زیادہ کما رہا ہے۔ فری لانسنگ اور ریموٹ ورک (Remote Work) نے سرحدوں کی تمیز ختم کر دی ہے؛ یہاں آپ کی ڈگری کا نام نہیں، بلکہ آپ کے کام کا معیار (Portfolio) دیکھا جاتا ہے۔

تاہم، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تعلیمی ڈگری مکمل طور پر بے کار ہو چکی ہے۔ طب (Medicine)، قانون، اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں بنیادی علم اور ڈگری کی اہمیت ہمیشہ قائم رہے گی۔ لیکن عام شعبہ ہائے زندگی میں محض تھیوری (Theory) کا دور ختم ہو چکا ہے۔

آج کے نوجوان کے لیے سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک تعلیمی سند آپ کو سنہری مستقبل کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ کامیابی اب اس بات میں ہے کہ آپ اپنے نظریاتی علم کو عملی ہنر میں کیسے ڈھالتے ہیں۔ اگر ڈگری کے ساتھ جدید دور کے مطابق ہنر شامل نہ ہو، تو وہ واقعی محض ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہے۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو مسلسل نیا ہنر سیکھنے، پرانے کو چھوڑنے اور وقت کے ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement