خبریں

دودھ کا قطرہ

دودھ کا قطرہ


دودھ کا قطرہ


نائلہ کے گھر میں ننھی زینب 3 مہینے کی تھی۔ رات کو 2-3 بار اٹھنا، دودھ پلانا، ڈکار دلوانا... نائلہ تھک جاتی تھی۔

ایک رات زینب بہت روئی۔ نائلہ نے بوتل بنائی۔ جلدی میں تھوڑا دودھ میز پر گر گیا۔ 2-3 قطرے۔  
نائلہ نے جلدی سے کپڑے سے صاف کیا اور سوچا "کوئی بات نہیں، تھوڑا سا ہی تو ہے"۔

اگلی صبح دودھ ختم ہو گیا۔ گھر میں پیسے بھی نہیں تھے۔ شوہر کی تنخواہ میں ابھی 3 دن تھے۔  
زینب بھوکی رو رہی تھی۔ نائلہ نے چائے کی پتی ابال کر اس میں چینی ڈال کر بچی کو چٹکی چٹکی پلائی۔ دل رو رہا تھا۔

شام کو محلے کی آنٹی آئیں۔ ہاتھ میں دودھ کا پیکٹ تھا۔ بولیں "بیٹا، آج بازار گئی تھی تو سوچا تمہارے لیے لے آؤں"۔

نائلہ نے پیکٹ کھولا۔ بوتل بنائی۔ زینب نے سیر ہو کر دودھ پیا اور سو گئی۔  
نائلہ برتن دھو رہی تھی کہ اچانک اسے رات والا منظر یاد آیا۔ وہ 2-3 قطرے جو اس نے "تھوڑے سے" کہہ کر صاف کر دیے تھے۔

وہ فرش پر بیٹھ کر رونے لگی۔  
ساس نے کندھا تھپتھپایا اور بولیں "بیٹا، نعمت کی بے قدری مت کرو۔ اللہ ایک قطرے کا بھی حساب لیتا ہے۔ آج تمہیں پتہ چلا کہ دودھ کا ایک قطرہ کیا ہوتا ہے؟"

اس دن کے بعد نائلہ نے قسم کھائی۔  
بوتل بناتے وقت ایک قطرہ بھی ضائع نہ کرے۔ بچا ہوا دودھ فریج میں رکھ دے۔ مہنگا ہے تو کیا ہوا، یہ اللہ کی نعمت ہے۔

کبھی کبھی زینب دودھ نہیں پیتی تو نائلہ زبردستی نہیں کرتی۔ کہتی ہے "بیٹا پیٹ بھر گیا تو ٹھیک، ضائع نہیں کریں گے"۔

محلے کی عورتیں کہتی ہیں "نائلہ بہت کنجوس ہو گئی ہے"۔  
نائلہ مسکرا کر کہتی ہے "نہیں آنٹی، میں نعمت کی قدر کرنا سیکھ گئی ہوں۔ جس دن گھر میں دودھ نہ ہو، اس دن پتہ چلتا ہے کہ دودھ کے ایک قطرے کی کیا قیمت ہے"۔

آج زینب 2 سال کی ہے۔ اب وہ خود کپ پکڑتی ہے۔ اگر ایک قطرہ بھی گر جائے تو نائلہ فوراً کہتی ہے "شاباش بیٹا، احتیاط سے پیو۔ یہ اللہ کا رزق ہے"۔

 چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی قدر کرو۔ دودھ کا ایک قطرہ بھی ضائع کرنا اللہ کو ناپسند ہے۔ جس دن نعمت نہیں ہوتی، اس دن اس کی قیمت پتہ چلتی ہے۔


تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement