کبھی آپ نے کسی چمکتے ہوئے موتی کو غور سے دیکھا ہے؟ اس کی نرم چمک، گولائی اور نفاست دیکھ کر یہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سمندر نے اپنی خوبصورتی کا ایک چھوٹا سا راز اپنے اندر چھپا رکھا ہو۔ یہ موتی صرف ایک قیمتی زیور نہیں، بلکہ قدرت کے حیرت انگیز نظام کی ایک زندہ مثال بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق میں ایسی بے شمار نشانیاں رکھی ہیں جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ موتی بھی انہی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"ان دونوں (سمندروں) سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔"
(سورۃ الرحمٰن، آیت 22)
موتی بنتا کیسے ہے؟
عام خیال یہ ہے کہ موتی صرف ریت کے دانے سے بنتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے۔ جب کسی سیپ (Oyster) یا دوسرے مولسک کے اندر کوئی چھوٹا سا غیرملکی ذرہ، پرجیوی یا کوئی باریک چیز داخل ہو جاتی ہے تو وہ اس کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
اپنے دفاع کے لیے سیپ ایک خاص چمکدار مادہ خارج کرتی ہے جسے نیکر (Nacre) یا مدر آف پرل کہا جاتا ہے۔ یہ مادہ بار بار اس ذرے پر تہہ در تہہ جمع ہوتا رہتا ہے۔ مہینوں اور بعض اوقات کئی سال بعد یہی باریک تہیں ایک خوبصورت، چمکدار موتی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
یعنی جس چیز نے ابتدا میں تکلیف دی، وہی آخرکار خوبصورتی میں بدل گئی۔ یہی وجہ ہے کہ موتی کو اک
قدرتی اور کلچرڈ موتی
آج دنیا میں دو بنیادی اقسام کے موتی پائے جاتے ہیں۔

قدرتی موتی وہ ہیں جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے خود بخود بنتے ہیں۔ یہ بہت نایاب ہوتے ہیں، اسی لیے ان کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
دوسری طرف کلچرڈ موتی انسان کی مدد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس طریقے میں ایک ماہر سیپ کے اندر احتیاط سے ایک چھوٹا سا مرکز رکھتا ہے، پھر سیپ قدرتی انداز میں اس کے گرد نیکر کی تہیں چڑھاتی رہتی ہے۔ اس لیے کلچرڈ موتی بھی اصل موتی ہوتے ہیں، صرف ان کے بننے کا آغاز انسان کرتا ہے۔

تبصرے (0)
Leave a Comment