خبریں

سرگودھا کا سانحہ اور انصاف کی تلاش کیا سچ کبھی مکمل سامنے آئے گا؟

سرگودھا کا سانحہ اور انصاف کی تلاش کیا سچ کبھی مکمل سامنے آئے گا؟

سرگودھا کا سانحہ اور انصاف کی تلاش

سرگودھا میں 23 جون کو پیش آنے والا وہ دل دہلا دینے والا واقعہ، جہاں ایک معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا، نہ صرف ایک خاندان کا سانحہ ہے بلکہ پورے معاشرے کے زخموں کو کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اب اس کیس میں ملزم ارسلان کے انکاؤنٹر کے بعد پولیس پر الزامات عائد ہو رہے ہیں کہ وہ دیگر مجرموں کو، خاص طور پر اس دکان کے مالک کو، بچا رہی ہے جس جگہ یہ وحشیانہ جرم ہوا۔ بچی کے چچا اور ملزم ارسلان کے خاندان دونوں الگ الگ یہ کہہ رہے ہیں کہ تفتیش نامکمل ہے اور حقیقی ذمہ داران کو بچایا جا رہا ہے۔

یہ الزامات پولیس کی ساکھ پر ایک اور سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ کیا ہمارے نظام میں غریب اور کمزور کے لیے انصاف صرف کاغذوں تک محدود رہ گیا ہے؟ ایک معصوم بچی کی جان لینے والے مجرموں کو پناہ دینا یا انہیں چھوڑ دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ جرم کی حوصلہ افزائی ہے۔ اگر پولیس واقعی کچھ مشتبہ افراد کو "آف دی ہک" کر رہی ہے تو یہ پوری ریاست کی ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر آزادانہ تفتیش کروائی جائے۔

اس سانحے نے ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا ہے کہ بچیوں کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ معاشرے میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے سخت قوانین تو موجود ہیں، مگر عملدرآمد کہاں ہے؟ پولیس کو شفاف تفتیش کرنی چاہیے، تمام ملزمان کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور کسی کو بھی سیاسی یا ذاتی مفادات کی خاطر بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔
حکومت اور عدالتی نظام سے گزارش ہے کہ اس کیس کو مثال بنائیں۔ جلد از جلد مکمل انصاف ہو، تاکہ ایسے دلخراش واقعات کی تکرار نہ ہو۔ متاثرہ خاندانوں کو تسلی دی جائے اور معاشرے میں اعتماد بحال کیا جائے۔ انصاف کی تاخیر خود ایک ظلم ہے۔ اللہ اس بچی کی روح کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور اس کے قاتلوں کو سزا دلائے۔

یہ رائے حقیقت پر مبنی ہے اور متاثرین کے درد کو اجاگر کرتی ہے۔ ہم سب کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement