خبریں

اسلام آباد میں FIA کا بڑا ایکشن: 500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا برآمد

اسلام آباد میں FIA کا بڑا ایکشن: 500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا برآمد

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں 500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ ان کی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

اس کارروائی میں تین چینی شہریوں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر انسانی اعضا اور ٹشوز کی غیر قانونی خرید و فروخت کا الزام ہے۔

پلیسینٹا کیا ہوتا ہے؟

پلیسینٹا حمل کے دوران ماں کے رحم میں بننے والا ایک عضو ہوتا ہے۔ یہ نال (امبیلکل کارڈ) کے ذریعے بچے سے جڑا رہتا ہے۔ بچے کو آکسیجن اور غذائیت فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مواد نکالتا ہے۔

urdu-post

ملزمان کیا کر رہے تھے؟

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان مختلف ہسپتالوں سے انسانی پلیسینٹا پیسوں دے کر اکٹھا کرتے تھے۔ پھر اسے بھیڑ کا پلیسینٹا بتا کر پروسیس کرتے اور بیرون ملک بھیجتے تھے۔

ایف آئی اے نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے سیکٹر F-7 اور E-11 میں چھاپے مارے۔ ایک گھر کو مکمل طور پر پلیسینٹا کو محفوظ کرنے اور پروسیس کرنے کی جگہ بنا لیا گیا تھا۔ وہاں سے بڑی تعداد میں کنٹینرز اور ریفریجریٹرز برآمد ہوئے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار افراد نے باہمی ملی بھگت سے یہ کاروبار چلایا ہوا تھا۔ اب ان سے تفتیش جاری ہے اور انہیں عدالت سے چار روزہ ریمانڈ ملا ہے۔

نمونه پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لاہور بھیجے گئے ہیں تاکہ تصدیق ہو سکے کہ یہ واقعی انسانی پلیسینٹا ہے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ماضی میں انسانی اعضا کی غیر قانونی ٹرانسپلانٹیشن کے کیسز تو سامنے آتے رہے ہیں، لیکن انسانی پلیسینٹا کی بڑی مقدار میں غیر قانونی تجارت کا یہ پہلا بڑا کیس ہے۔

یہ خبر ابھی تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ہے اور مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement