کھیل

بتائیں نہیں، دکھائیں: کہانی لکھنے کا اصل راز

بتائیں نہیں، دکھائیں: کہانی لکھنے کا اصل راز


بتائیں نہیں، دکھائیں: کہانی لکھنے کا اصل راز

ان دو جملوں کو دیکھیں:

  1. “پرانے تہہ خانے میں بہت سردی اور ڈر تھا۔”

  2. “سردی سے میری سانس رکنے لگی اور اندھیرے سے زنگ لگے دروازے کے گھسٹنے کی خوفناک آواز آئی۔”

ان میں سے کس جملے نے آپ کا دھیان زیادہ کھینچا؟

دوسرا جملہ زیادہ اچھا ہے کیونکہ یہ اچھی تحریر کے سب سے بڑے اصول پر پورا اترتا ہے: بتائیں نہیں، دکھائیں۔ (Show, Don't Tell)۔ صرف بتانے سے بات پھی کی لگتی ہے، لیکن "دکھانے" سے پڑھنے والا ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ خود اس منظر میں موجود ہو۔

صرف "بتانے" کی غلطی

جب ہم کہانی لکھتے ہیں، تو اکثر بس یہ بتا دیتے ہیں کہ کوئی بندہ غصے میں تھا، کمرہ گندا تھا، یا کھانا مزیدار تھا۔

اس طرح لکھنے سے کہانی آگے تو بڑھ جاتی ہے، لیکن پڑھنے والے کا مزہ خراب ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کو پہیلی کا جواب پہلے ہی بتا دیا جائے۔ جب آپ صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ کوئی اداس تھا، تو پڑھنے والا اسے محسوس نہیں کر پاتا۔

پانچ حواس (Senses) کا استعمال

اپنی تحریر کو جاندار بنانے کے لیے ان ۵ چیزوں کا استعمال کریں:

  • دیکھنا: سیدھے الفاظ استعمال نہ کریں۔ جیسے یہ لکھنے کے بجائے کہ “وہ گھبرا رہی تھی”، یوں لکھیں: “وہ بار بار اپنے کپڑے کا کونہ مروڑ رہی تھی۔”

  • سننا: آوازوں سے ماحول بنتا ہے۔ جیسے چھت پر بارش کی تھپتھپ یا خاموش گلی میں جوتوں کی ٹک ٹک۔

  • چھونا: ٹھنڈ، گرمی یا چیزوں کی ساخت بتائیں۔ جیسے ریت کا کھردراپن یا چائے کے کپ کی گرمائش۔

  • سونگھنا اور چکھنا: یہ چیزیں پرانی یادیں تازہ کر دیتی ہیں۔ جیسے طوفان سے پہلے مٹی کی خوشبو یا تازہ کیک کی مہک۔

پڑھنے والے پر بھروسہ رکھیں

"دکھانے" کا مطلب ہے پڑھنے والے پر یقین رکھنا کہ وہ بات کو سمجھ جائے گا۔ اگر آپ یہ بتا دیں کہ کسی نے غصے میں مٹھی زور سے بند کر لی ہے، تو الگ سے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ “وہ غصے میں تھا”۔ پڑھنے والا خود سمجھ جائے گا۔

اس کی مشق کیسے کریں؟

جب بھی اپنی تحریر دوبارہ پڑھیں، تو ڈر، خوشی، بیزاری یا جوش جیسے عام الفاظ کو ہٹا کر ان کی جگہ وہ چیزیں لکھیں جو محسوس کی جا سکیں۔ جیسے دل کی دھڑکن تیز ہونا یا چہرے پر دھوپ محسوس ہونا۔

شروع میں اس میں تھوڑا وقت لگتا ہے، لیکن جب آپ یہ طریقہ سیکھ جائیں گے تو آپ کی کہانی صرف پڑھی نہیں جائے گی، بلکہ محسوس کی جائے گی۔

تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement