پینسلین کی دریافت: ایک خوشگوار غلطی جس نے کروڑوں انسانوں کی جان بچائی
طبی سائنس کی تاریخ میں ایسی کئی دریافتیں ہوئی ہیں جنہوں نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا، لیکن ان میں سب سے اہم اور انقلابی دریافت "پینسلین" (Penicillin) کی ہے۔ 1928ء سے پہلے، ایک معمولی سا زخم، کٹ یا نزلہ زکام کا انفیکشن بھی انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا، کیونکہ بیکٹیریا سے لڑنے کے لیے دنیا کے پاس کوئی مؤثر دوا موجود نہیں تھی۔ لیکن پھر ایک ایسی غلطی ہوئی جس نے طب کی دنیا میں معجزہ برپا کر دیا۔
ستمبر 1928ء میں، لندن کے سینٹ میریز ہسپتال کے سائنسدان الیگزینڈر فلیمنگ (Alexander Fleming) اپنی لیبارٹری میں بیکٹیریا پر تحقیق کر رہے تھے۔ تعطیلات پر جانے سے پہلے، وہ بیکٹیریا والی کچھ پیٹری ڈشز (Petri dishes) کو غلطی سے کھلی لیب کی میز پر ہی بھول گئے۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک ڈش پر پھپھوندی (Mold) اگ آئی تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس پھپھوندی کے گرد بیکٹیریا کی نمو بالکل رک چکی تھی اور وہ ختم ہو رہے تھے۔
فلیمنگ نے اس پھپھوندی کا غور سے مطالعہ کیا اور معلوم کیا کہ یہ Penicillium notatum نامی ایک نایاب پھپھوندی ہے، جو ایک خاص کیمیائی مادّہ خارج کرتی ہے۔ انہوں نے اس مادّے کو "پینسلین" کا نام دیا۔ یہ دنیا کی پہلی حقیقی اینٹی بائیوٹک (Antibiotic) تھی، جو انسانی خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر صرف نقصان دہ بیکٹیریا کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
اگرچہ فلیمنگ نے پینسلین کو دریافت کر لیا تھا، لیکن اسے بڑی مقدار میں تیار کرنا اور دوا کی شکل دینا ایک بڑا چیلنج تھا۔ بعد میں، 1930ء کے دہاکے کے آخر میں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے دو سائنسدانوں، ہاورڈ فلورے (Howard Florey) اور ارنسٹ چین (Ernst Chain) نے اس پر مزید کام کیا۔ انہوں نے پینسلین کو خالص شکل میں الگ کرنے اور اسے بڑے پیمانے پر بنانے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران، پینسلین نے ہزاروں زخمی سپاہیوں کو انفیکشن سے بچا کر ان کی جانیں بچائیں۔ اس عظیم دریافت پر الیگزینڈر فلیمنگ، ہاورڈ فلورے اور ارنسٹ چین کو 1945ء میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
آج پینسلین کی بدولت نیومونیا، گردن توڑ بخار اور خون کے انفیکشن جیسی مہلک بیماریوں کا علاج ممکن ہو چکا ہے۔ پینسلین کی دریافت نہ صرف سائنس کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ کبھی کبھار ایک معمولی سی غلطی بھی دنیا کے لیے سب سے بڑا تحفہ بن سکتی ہے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment