لاہور کی ایک چھوٹی سی ورکشاپ میں علی بیٹھے ہوئے تھے، آنکھوں کے سامنے کمپیوٹر کی سکرین پر ایک پیچیدہ دھاتی پرزہ گھوم رہا تھا۔ یہ پرزہ کوئی عام نہیں تھا—ایک راکٹ انجن کا اہم حصہ، جو روایتی طریقوں سے بنانا مہینوں لگاتا، لیکن 3D پرنٹر نے اسے چند دنوں میں تیار کر دیا تھا۔
علی نے ہلکا سا سانس لیا۔ اس کے استاد، ڈاکٹر کمال، نے کئی بار کہا تھا، “بیٹا، پرنٹنگ آسان ہے، لیکن سرٹیفیکیشن آسمان چھونا ہے۔” ایرو اسپیس میں دھاتی 3D پرنٹڈ پارٹس کو منظور کروانا اتنا آسان نہیں۔ پرانے اصولوں کے مطابق دھات کو گھڑ کر یا ڈھال کر بنانا چاہیے، تاکہ اس کی طاقت اور پائیداری ثابت ہو۔
لیکن پرت بہ پرت بننے والے اس پرزے میں مائیکرو سکوپک سوراخ، اندرونی دباؤ اور غیر معمولی ساخت ہوتی ہے۔
کوئی بھی چھوٹی سی کمی پرواز کے دوران بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
ایک رات علی نے پرانے قوانین کی فائلیں کھولیں اور سوچا کہ یہ اصول کب بدلیں گے۔ اگلے دن اس نے نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربہ کیا—ان سائٹو سینسرز، جو پرنٹنگ کے دوران ہر پرت کا درجہ حرارت اور آواز ریکارڈ کرتے تھے۔
پھر ہاٹ آئسوسٹیٹک پریسنگ سے اندرونی سوراخ بند کیے، اور مشین لرننگ ماڈل سے ممکنہ نقائص کی پیش گوئی کی۔
مہینوں کی محنت کے بعد نمونہ تیار ہوا۔ ٹیسٹنگ لیب میں جب پرزے کو انتہائی دباؤ اور درجہ حرارت میں رکھا گیا، تو وہ ٹوٹا نہیں۔
تھکاوٹ کے ٹیسٹ میں بھی اس نے پرانے فورجڈ پرزوں سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ ڈاکٹر کمال نے مسکرا کر کہا، “اب اصل جنگ شروع ہوئی ہے۔”
سرٹیفیکیشن بورڈ کے سامنے علی نے ڈیٹا پیش کیا۔ سوالات برسے—پاؤڈر کی کوالٹی، مشین کے پیرامیٹرز، بار بار کیے گئے ٹیسٹ۔
علی نے ثابت کیا کہ عمل کو کنٹرول کر کے اور ڈیجیٹل ٹوئن استعمال کر کے روایتی مواد سے زیادہ قابل اعتماد پرزہ بنایا جا سکتا ہے۔ آخر کار، محدود منظوری مل گئی۔ پہلا پرزہ ایک تجرباتی راکٹ میں لگایا گیا۔
لانچ کے دن علی کنٹرول روم میں کھڑے تھے۔ راکٹ نے زمین چھوڑی، آسمان چیرتا ہوا اوپر گیا۔ ٹیلیمیٹری نے بتایا کہ پرنٹڈ پرزہ بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے۔
کامیابی کے لمحے میں علی کو یاد آیا کہ کیسے پرانے قوانین نئی حقیقت کے سامنے جھک رہے ہیں۔
اب ورکشاپ میں نئے منصوبے لگے ہیں۔ علی جانتا ہے کہ یہ صرف ایک پرزہ نہیں، بلکہ ایک نیا دور ہے۔ 3D پرنٹنگ صرف وزن کم نہیں کر رہی، بلکہ ایرو اسپیس کی پوری سوچ بدل رہی ہے۔ سرٹیفیکیشن کے اصول اب پرنٹنگ کے فزکس کے مطابق لکھے جا رہے ہیں۔
اور پاکستان جیسے ملک میں بیٹھے ایک انجینئر نے اس تبدیلی کا حصہ بن کر دکھایا کہ جدت سرحدوں کو نہیں مانتی۔
رات کے سکوت میں علی نے پرنٹر کی طرف دیکھا، جو اگلا پرزہ بنا رہا تھا۔
اس کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ تھی—کیونکہ آج سے قوانین بدلنا شروع ہو گئے تھے۔
تبصرے (0)
Leave a Comment