صحت

رات کے وقت دماغ زیادہ کیوں سوچتا ہے؟

رات کے وقت دماغ زیادہ کیوں سوچتا ہے؟



کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ دن بھر سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے، لیکن جیسے ہی رات ہوتی ہے، دماغ میں خیالات کا طوفان آ جاتا ہے؟ پرانی یادیں، مستقبل کی فکر، ادھورے خواب، کیے گئے فیصلے، اور نہ جانے کتنے سوال ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ رات کو سونے سے پہلے خود کو ضرورت سے زیادہ سوچتے ہوئے پاتے ہیں۔

یہ صرف آپ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کیفیت کا تجربہ کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے صرف جذبات نہیں بلکہ نفسیات، دماغی سائنس اور حیاتیاتی گھڑی (Biological Clock) بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

رات کو خیالات کیوں بڑھ جاتے ہیں؟

دن کے وقت ہمارا دماغ مختلف کاموں میں مصروف رہتا ہے۔ تعلیم، ملازمت، گھر کے کام، لوگوں سے بات چیت اور روزمرہ کی ذمہ داریاں ہماری توجہ کو بٹا دیتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی رات ہوتی ہے اور اردگرد خاموشی چھا جاتی ہے، دماغ کو پہلی بار سکون سے سوچنے کا موقع ملتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسان کا دماغ کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔ جب بیرونی مصروفیات کم ہو جائیں تو اندرونی خیالات زیادہ نمایاں ہونے لگتے ہیں۔

دماغ کا "ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک"

اعصابی سائنس (Neuroscience) میں ایک اہم نظام کو Default Mode Network (DMN) کہا جاتا ہے۔ یہ دماغ کے ان حصوں کا مجموعہ ہے جو اس وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں جب انسان کسی خاص کام میں مصروف نہ ہو۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہی نظام ہمیں ماضی کو یاد کرنے، مستقبل کا تصور کرنے، اپنی شخصیت کے بارے میں سوچنے اور دوسروں کے رویوں کا تجزیہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

رات کے وقت چونکہ ہماری توجہ بٹانے والی چیزیں کم ہو جاتی ہیں، اس لیے یہی نیٹ ورک زیادہ فعال ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خیالات کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔

خاموشی کا نفسیاتی اثر

خاموش ماحول انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔

نفسیات کے مطابق جب باہر شور کم ہوتا ہے تو اندر کی آواز زیادہ واضح سنائی دیتی ہے۔ اسی لیے دن میں نظر انداز کیے گئے جذبات رات کو دوبارہ سامنے آ جاتے ہیں۔

کبھی کبھی یہ فائدہ مند بھی ہوتا ہے کیونکہ انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، لیکن اگر یہی سوچ حد سے بڑھ جائے تو اسے Rumination کہا جاتا ہے۔

رومی نیشن(Rumination) کیا ہے؟

رومی نیشن سے مراد ایک ہی مسئلے، غلطی یا فکر کو بار بار ذہن میں دہرانا ہے، بغیر کسی حل تک پہنچے۔

urdu-post

تحقیقات بتاتی ہیں کہ مسلسل رومی نیشن ذہنی دباؤ، بے چینی (Anxiety) اور ڈپریشن کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین ضرورت سے زیادہ سوچنے کو صرف عادت نہیں بلکہ ذہنی صحت سے جڑا ہوا مسئلہ بھی سمجھتے ہیں۔

ہارمونز بھی کردار ادا کرتے ہیں

ہمارا جسم ایک اندرونی گھڑی کے مطابق کام کرتا ہے جسے Circadian Rhythm کہا جاتا ہے۔

رات کے وقت جسم میں Melatonin نامی ہارمون بڑھنے لگتا ہے، جو نیند کی تیاری کرتا ہے۔

اسی دوران بعض لوگوں میں Cortisol یعنی ذہنی دباؤ سے متعلق ہارمون کی سطح مکمل طور پر کم نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کو رات کے وقت پریشان کن خیالات زیادہ آنے لگتے ہیں۔

نیند کی کمی اور زیادہ سوچنا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ناکافی نیند دماغ کے جذبات کو قابو میں رکھنے والے حصے پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

دماغ کا Prefrontal Cortex فیصلے کرنے اور جذبات کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ Amygdala خوف اور خطرے کو محسوس کرنے سے متعلق حصہ ہے۔

نیند پوری نہ ہونے پر Amygdala زیادہ حساس ہو جاتی ہے، جس سے معمولی مسائل بھی بہت بڑے محسوس ہونے لگتے ہیں۔

اسی لیے رات کو جاگنے والے افراد اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں۔

کیا رات کو سوچنا ہمیشہ برا ہوتا ہے؟

ضروری نہیں۔

تاریخ میں بہت سے سائنس دان، شاعر، مصنف اور فنکار رات کے وقت بہترین خیالات حاصل کرتے تھے۔

urdu-post

اس کی وجہ یہ تھی کہ خاموش ماحول میں تخلیقی صلاحیت بہتر انداز میں کام کر سکتی ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ تعمیری سوچ انسان کو نئے خیالات دیتی ہے، جبکہ بے مقصد فکر انسان کی توانائی ختم کر دیتی ہے۔

زیادہ سوچنے سے کیسے بچا جائے؟

ماہرینِ نفسیات چند آسان طریقے تجویز کرتے ہیں۔

مثبت سوچ کی طاقت

نفسیات یہ بھی بتاتی ہے کہ ہمارا دماغ منفی معلومات کو مثبت معلومات کے مقابلے میں زیادہ دیر تک یاد رکھتا ہے۔ اسے Negativity Bias کہا جاتا ہے۔

اگر ہم سونے سے پہلے تین اچھی باتیں یا کامیابیاں یاد کریں تو آہستہ آہستہ دماغ مثبت پہلوؤں پر بھی توجہ دینا شروع کر دیتا ہے۔

یہ ایک سادہ مگر مؤثر عادت ہے جو ذہنی سکون میں مدد دے سکتی ہے۔

اسلام کی روشنی میں ذہنی سکون

اسلام انسان کو رات کے وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے، دعا کرنے اور اپنے دل کا بوجھ اس کے سامنے رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں:

"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"

(سورۃ الرعد: 28)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی سکون صرف دنیاوی مصروفیات سے نہیں بلکہ اللہ کی یاد سے بھی حاصل ہوتا ہے۔

رات کو زیادہ سوچنا انسانی دماغ کی ایک قدرتی خصوصیت ہے، کیونکہ اس وقت خاموشی، دماغ کے مخصوص نیٹ ورکس، جسمانی ہارمونز اور ہماری نفسیاتی کیفیت ایک ساتھ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر یہ سوچ تخلیقی ہو تو نئی راہیں کھول سکتی ہے، لیکن اگر یہی خیالات بار بار پریشانی کا باعث بنیں تو یہ ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

اپنے دماغ کو دشمن نہ سمجھیں۔ وہ صرف دن بھر جمع ہونے والی معلومات کو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ اچھی نیند، مثبت عادتیں، متوازن طرزِ زندگی اور اللہ پر بھروسا انسان کو نہ صرف پرسکون نیند دیتا ہے بلکہ ذہنی سکون بھی عطا کرتا ہے۔ یاد رکھیں، ہر خیال حقیقت نہیں ہوتا، اور ہر فکر مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتی۔ بعض اوقات بہترین علاج صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے دماغ کو آرام کرنے کا موقع دیں۔


تبصرے (0)

Leave a Comment

Advertisement